سارک چیمبر افغانستان اور ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے پاکستان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے، افتخار علی ملک

لاہور ( ویب   نیوز) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے افغانستان اور ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سہ فریقی تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور تینوں پڑوسی مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ اتوار کو وقاص انجم کی قیادت میں تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے تحت درآمدات اور برآمدات کی اجازت دینا پاکستان کا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اس سے علاقائی تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے علاوہ غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہو گی اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے بارٹر ٹریڈ شروع کرنے کے لیے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کے متعلقہ حصے میں ترمیم کی ہے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ تینوں ممالک کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اس کیلئے کوشاں تھے اور یہ خطے میں اقتصادی تعاون اور خوشحالی کی جانب اہم پیشرفت کا عکاس ہے۔ افتخار علی ملک نے اس امید کا اظہار کیا کہ بارٹر ٹریڈ کیلئے مناسب طریقہ کار عمل میں لایا جائے گا اور ایران اور پاکستان کے حکام اسے جلد حتمی شکل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سارک چیمبر کے صدر دفتر میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے تاکہ رکن ممالک خصوصا افغانستان کے تاجروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ سابق صدر لاہور چیمبر و چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان شہزاد علی ملک نے کہا کہ اس فیصلے سے ایران کو ہماری برآمدات، خاص طور پر چاول بشمول گارڈ رائس جس کی بہت زیادہ مانگ ہے، بڑھانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے علاقائی چیمبرز سمیت نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ اس بڑے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بارٹر تجارت کو فروغ دینے کے لیے صحیح سمت میں ایک تعمیری پیش رفت قرار دیتی ہے۔

By Editor