ملکی معیشت سیاسی عدم استحکام اور محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکتی، افتخار علی ملک

لاہور (ویب  نیوز) کووڈ 19 کے بعد وقت کے اس اہم موڑ پر پاکستان کی کمزور معیشت سیاسی عدم استحکام اور محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اتوار کو یہاں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر طفیل کی قیادت میں تاجر رہنماؤں کے وفد سے ملاقات کے دوران صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک نے کہا کہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور اقتصادی ترقی کے تسلسل کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کے معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال میں خاص طور پر پسماندہ ممالک کی کمزور معیشت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ حقائق سے یہ بخوبی عیاں ہے کہ زیادہ تر بین الاقوامی کھلاڑی اپنے مذموم عزائم اور مفادات کے حصول کے لیے اس قسم کی افسوسناک صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے اور کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ ہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے نوازا ہے، ملکی خوشحالی اور ترقی کے لیے ان وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں میں مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ ہمیشہ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے سمیت پورا نجی شعبہ اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے جبکہ حکومت کو نئی اصلاحات لا کر خام مال اور تیار اشیاء کی سمگلنگ پر قابو پانا چاہیے اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہئے جس پر قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو جاتا ہے۔ وفد میں ظفر بختاوری، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، خالد تواب، گلزار فیروز، شیخ ریاض، ڈاکٹر نعمان اور دیگر شامل تھے

By Editor