لاہور  (ویب ڈیسک)

وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کسی بھی ٹیکس دہندہ کے ساتھ کسی صورت ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔

جمعرات کو یہاں اپنے علاقائی دفتر میں  لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مہر کاشف یونس کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ  تاجر برادری خصوصاً ٹیکس دہندگان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ان لینڈ ریونیو سروسز یا کسٹمز کے عملے کی طرف سے کسی بھی بدانتظامی اور انہیں درپیش حقیقی شکایات کے قانون کے مطابق ازالے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں وفاقی ٹیکس محتسب کے علاقائی دفاتر کے تمام مشیروںاور کنسلٹنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اولین ترجیح پر زیر التواء شکایات کے ازالے کی رفتارکو تیز کریں اور مقررہ مدت کے اندر میرٹ پر فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور ریاست کاروباری آسانیوں کے ذریعے کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کی پابند ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا کہ ٹیکس دہندگان بروقت ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں ٹیکس کا سب سے بڑا ادارہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان سے قانون کے مطابق ٹیکس اور ریونیو اکٹھا کرتا ہے۔ انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ شکایات کے ازالے اور انصاف کے لیے دستاویزی ثبوت کے ساتھ شکایات درج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی دفاتر اور بڑے شہروں میں خصوصی آگاہی سیمینار منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ تاجر برادری کو ایف ٹی او کے کردار اور کام کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے جبکہ فوری کارروائی کے لیے ایف ٹی او کے ساتھ بہتر رابطے کے لیے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں بزنس کوآرڈینیٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں ڈاکٹر صف محمود جاہ  نے بزرگ تاجر رہنما اور سارک چیمبر کے صدر افتخار علی ملک سے ملاقات کی اور ٹیکس دہندگان کی شکایات پر قابو پانے کے حوالے سے ایف ٹی او دفاتر میں مزید بہتری کے لیے تبادلہ خیال کیا۔ افتخار علی ملک نے ڈاکٹر آصف جاہ کی شاندار خدمات کو سراہا اور تاجر برادری کے ساتھ تعلقات میں ان کے دور کو تاریخی بنانے کے لیے ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر آصف جاہ نے افتخار علی ملک کی سفارش پر مہر کاشف یونس کو ایف ٹی او ایڈوائزری کمیٹی میں شامل کیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کی تمام کیٹیگریز کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

By Editor