نئے قانون کرایہ داری پر عدالتوں میں عمل درآمد کی اپیل کرتے ہیں۔ جمشید اختر شیخ
کرایہ داری کے تنازعات حل ہونے سے کاروبار بہتر فروغ پائے گا۔ اجمل بلوچ، ظفر بختاوری، اعجاز عباسی

اسلام آباد (ویب نیوز)

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر جمشید اختر شیخ نے کہا کہ حکومت نے قانون کرایہ داری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ سے پاس کرا دیا ہے لیکن عدالتوں میں ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جس سے تاجربرادری مسائل کا شکار ہے لہذا انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ نئے قانون کرایہ دری پر عمل درآمد کیلئے ماتحت عدالتوں کو ہدایات جاری کریں تا کہ تاجروں کے کرایہ داری کے تنازعات جلد حل ہوں اور وہ پرسکون طریقے سے اپنی توجہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے پر مرکرکوز سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبر اختر عباسی اور راشد عباسی کی میزبانی میں کراچی کمپنی جی نائن مرکز میں سٹی لنکرز سٹیٹ آفس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد فہیم خان، آل پاکستان انجمن تاجراں کے صدر اجمل بلوچ، چیمبر کے سابق صدور ظفر بختاری، محمد اعجاز عباسی، سردار یاسر الیاس خان،سابق سینئر نائب صدور خالد چوہدری اور طاہر عباسی، سابق نائب صدر اشفاق چھٹہ سمیت اصغر عباسی، شاہد عباسی، حافظ عثمان، امتیاز عباسی اور تاجر براری کی ایک کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔
آل پاکستان انجمن تاجراں کے صدر اجمل بلوچ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چالیس سالوں سے اسلام آباد کی تاجر برادری ایک متوازن قانون کرایہ داری کے نفاذ کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور موجودہ حکومت نے قانون کرایہ داری کا ترمیمی بل پاس کر کے ان کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ تاہم تاجروں کو اس نئے قانون کا فائدہ تبھی ہو گا جب عدالتوں میں اس کے تحت کرایہ داری کے تنازعات کے فیصلے کئے جائیں گے۔ لہذا انہوں نے پرزور اپیل کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں میں کرایہ داری کے نئے قانون پر عمل درآمد کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے تا کہ تاجر برادری بہتر تحفظ کے احساس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔
آئی سی سی آئی کے سابق صدور ظفر بختاوری، محمد اعجاز عباسی اور سردار یاسرالیاس خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئے قانون کرایہ داری کی عدم موجودگی میں اسلام آباد میں کرایہ داری کے تنازعات میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا جبکہ تاجروں کی جبری بے دخلیوں کے واقعات بھی رونما ہو رہے تھے جس وجہ سے تاجر برادری پریشان تھی۔ تاہم اب کرایہ داری کا نیا قانون بنا دیا گیا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتوں میں بھی اس پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ تاجر برادری اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکے۔

 

By Editor