راولپنڈی (ویب ڈیسک)

چیمبر آف  سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر شیخ آصف ادریس نے پٹرولیم مصنوعات میںاضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں یکمشت 12روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جو اب بڑھ کر 160ہو گئی ہے، ڈیزل کی قیمت  154روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت تقریبا 127روپے فی لیٹر ہو گئی ہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹیشن لاگت پر آتا ہے پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے حالیہ اضافے سے مینوفیکچرنگ کا شعبہ متاثر ہو گا حکومت قیمتوں میں اضافہ پر نظر ثانی کرے تاکہ افراط زر میں کمی آئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمال انڈسٹری ست تعلق رکھنے والے تاجروں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

سینئر نائب صدر سینئر نائب صدر چوہدری محمد اکرم نے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی  انڈسٹریلائزیشن کے بغیرممکن نہیں ہے جب ہم اپنے آرڈر کی سپلائی مکمل کر لیتے ہیں تو دو تیم ماہ کے بعد فیول ایڈجسمنٹ چارجز آجاتے ہیں ہم کہاں سے انھیں پورا کریں  ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ کاروباری لاگت کم کی جائے جبکہ دوسری جانب  چارجز لگا کر تنگ کیا جات ہے ایسے حالات میں کاروبار کو جاری رکھنا نا ممکن ہوتا ہے اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تا خیری حربے استعمال نہ کریں۔

بجلی کے بل فیول ایڈجسٹ سیلز ٹیکس ریٹرن واپڈا  کے سسٹم کی خرابی کے باعث دو ماہ سے التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے مینوفیکچر دو ماہ سے ریٹرن جمع نہیں کروا سکے جس سے کنزیومر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مینوفیکچر کی جانب سے اس ضمن میں شکایات آ رہی ہیں اسے مسئلے کو فوری حل کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچر تین ماے پہلے اپنی آئٹم اس کی پروڈیکشن مارکیٹ میں سیل کر چکا ہے۔   مینوفیکچر گزشتہ تین ماہ سے فیول ایڈجسمنٹ سے ایف بی آر اور واپڈا کو آگاہ کر چکے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ سسٹم کو فوری ٹھیک کیا جائے اس خرابی کے باعث ایس ایم ای متعلقہ مینوفیکچر تباہ اور دیوالیہ ہو رہے ہیں اس وقت پاکستان کی معیشت شدید دباو کا شکار ہے حکومت ان مسائل  پر سنجیدگی غور کرکے  سمال انڈسٹر ی کو نقصان سے بچائے۔

By Editor