کراچی (ویب ڈیسک)

پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے مندی کی لپیٹ میں رہی ،کے ایس ای100انڈیکس400پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس46ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حدسے گھٹ گیا اور45600پوائنٹس کی پست سطح پر بند ہوا ،کاروباری مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے79ارب روپے سے زائد ڈوب گئے جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 78کھرب روپے سے کم ہو کر77کھرب روپے رہ گیا،مندی کے سبب54.66فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے3دن مندی کی زد میں رہی اس دوران انڈیکس725.88پوائنٹس لوز کر گیا جبکہ 2دن کی تیزی سے انڈیکس نے322.38پوائنٹس ریکور کئے تاہم مجموعی طور پر تنزلی کا شکار ہونے کے بعد مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 403.50پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس 46079.37پوائنٹس سے کم ہو کر45675.87پوائنٹس ہو گیا اسی طرح 164.17پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 17968.10پوائنٹس سے کم ہو کر17803.93پوائنٹس پر بند ہواجبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 31589.92پوائنٹس سے کم ہو کر31255.99پوائنٹس پر آگیا ۔کاروباری مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 79ارب48لاکھ88ہزار88روپے کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 78کھرب75ارب36کروڑ77لاکھ24ہزار494روپے سے گھٹ کر77کھرب96ارب36کروڑ28لاکھ39ہزار406روپے رہ گیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس ایک موقع پر46128.11پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کی لہر آنے سے انڈیکس 45257.41پوائنٹس کی پست سطح پر بھی ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ 6ارب روپے مالیت کے 27کروڑ45لاکھ77ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے جبکہ کم سے کم4ارب روپے مالیت کے 15کرو28لاکھ62ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر1705کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے671کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،932میں کمی اور102کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔کا روبار کے لحاظ سے ورلڈ کال ٹیلی کام،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ ،غنی گلوبل ،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ ، ٹی پی ایل پراپرٹیز ،ہم نیٹ ورک ،کے الیکٹرک لمیٹڈ ،بینک آف پنجاب ،سینر جیکو پاک ،فرسٹ نیشنل ایکوٹیز ،اینگرو پولیمر ،بینک آف پنجاب ،ایونسن لمیٹیڈ ،یونٹی فوڈز لمیٹڈ ،فیصل بینک ،سمٹ بینک لمیٹڈ ،سونیری بینک لمیٹڈ ،سوئی نادرن گیس اور سوئی سدرن گیس سرفہرست رہے ۔

By Editor