گزشتہ برس اسی مدت میں15ارب ڈالر تھا

لاہور  (ویب ڈیسک)

تاجر رہنما وانجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے صدرراجہ وسیم حسن نے ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروںکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ وسیم حسن نے ادارہ شماریات کی اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے مطابق 7ماہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 91.97فیصد بڑھ گیا جولائی تا جنوری تجارتی خسارہ 28ارب80کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا گزشتہ سالی اسی عرصہ میں تجارتی خسارہ 15ارب ڈالر تھا انہوںنے کہا کہ مالی سال کے7ماہ میں برآمدات 23.96فیصد بڑھیں جبکہ جنوری میبں ماہانہ بنیادوں پر برآمدات 7.89فیصد کم ہوئیں۔جبکہ ملک میں جاری مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا اور کم آمدن افراد کیلئے اس کی شرح 19.53فیصد ہوگئی ۔جبکہ حقیقت میں مہنگائی میںاس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے صنعتی و تجارتی شعبہ کے ساتھ عوام بھی پریشانی کا شکار ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروںکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ وسیم حسن نے کہاکہ مہنگائی اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے کم ہوگی ،منی بجٹ کے بعد ہر شے مہنگی ہونے سے مہنگائی کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔انہوںنے کہا کہ بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیاء مہنگی ہونے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس لیے حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے بجلی گیس  پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور ہر فیول ایڈجسٹمنٹ کا ظالمانہ فارمولہ ختم کرے ۔نیز سیلز ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے۔تاکہ مہنگائی میں خاطر خواہ کمی سے عوام اور صنعتی و تجارتی شعبہ کو ریلیف مل سکے۔

By Editor