لاہور (ویب ڈیسک)

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کی برآمدات کو مزید بڑھانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ملبوسات، گارمنٹس، آرٹس اور دستکاریوں سمیت ملک کے ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ متعلقہ صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی فیشن انڈسٹری کو اس کی بھرپور صلاحیتوں کے مطابق ترقی دینے کے ساتھ ساتھ مقامی فیشن برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اکیڈمی-انڈسٹری روابط کو فروغ دیا جائے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاوس لاہور میں بین الاقوامی فیشن اور گارمنٹس انڈسٹری میں پاکستان کے امیج کے فروغ کے حوالے سے لاہور کے فیشن ڈیزائنرز سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل TDAP پنجاب شہزاد احمد خان، سرپرست اعلی آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن گوہر اعجاز، وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن لاہور پروفیسر حنا طیبہ اور حکومت کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مقامی گارمنٹس اور فیشن انڈسٹری کو ترقی دینے اور ٹیکسٹائل اور ثقافتی مصنوعات کے ذریعے پاکستان کے مثبت امیج کو پیش کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ مقامی اور بین الاقوامی گارمنٹس برانڈز کے درمیان تعاون اور روابط کو فروغ دینے، بین الاقوامی ادائیگی کے طریقہ کار سے متعلق مسائل کو حل کرنے، کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانے اور مقامی برانڈز کو اپنی مصنوعات کی بیرون ملک مارکیٹ اور نمائش کے لیے سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جسے ملک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملک کی برآمدات میں اضافے کے لیے ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کو ملک کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت نے شرکا کو اپنے تعاون کا یقین دلایا اور دبئی ایکسپو 2020 میں پاکستانی پویلین کو تیار کرنے میں ان کی کوششوں کو سراہا۔

By Editor