جے ڈبلیو جی کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، صنعت کاری اور اقتصادی زونز کی ترقی کو فروغ دیناہے

بیجنگ (ویب ڈیسک)

وزیراعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے موقع پر پاکستان اور چین نے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دئیے۔وزیرمملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد اظفر احسن اور چیئرمین نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن(این آر ڈی سی)ہی لیفنگ نے معاہدے پر دستخط کیے۔صنعتی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی)کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)کو راغب کرنا، صنعت کاری اور اقتصادی زونز کی ترقی کو فروغ دینا اور عوامی و سرکاری اور نجی دونوں طرح کے منصوبوں کا آغاز، منصوبہ بندی، عمل درآمد اور ان کی نگرانی کرنا ہے۔جے ڈبلیو جی میں چین کے ساتھ شمولیت کا مقصد پاکستان میں لیبر کی پیداواری صلاحیت اور صنعتی مسابقت کو بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور اس میں تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔2018میں منعقدہ سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کے دوران دونوں فریقین نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جو فریقین کے درمیان صنعتی تعاون کے حوالے سے مستقبل کی مصروفیات کی وجہ بنا۔سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس کا مرکز خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈ)کی ترقی اور صنعت کاری ہے، اس صورتحال میں ایک جامع فریم ورک معاہدے کی ضرورت ناگزیر ہوگئی تھی۔توانائی اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سی پیک کے ارلی ہارویسٹ منصوبوں کے لیے بھی اسی طرح کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔بورڈ آف انویسٹمنٹ(بی او آئی)کی مسلسل کوششوں سے دونوں فریقین نے 2020میں موجودہ مفاہمتی یادداشت کو ایک فریم ورک معاہدے میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔فریقین کی طویل مشاورت اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد بی او آئی نے نومبر 2020میں این ڈی آر سی کے ساتھ اس فریم ورک کا مسودہ شیئر کیا جسے سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب وزیر اعظم کے دورے کا ایک اہم نتیجہ ہے اور چین کی جانب سے اس کا ٹاپ ایجنڈا ہونا سی پیک میں ان کی دلچسپی کا ثبوت ہے۔

By Editor