ا ستنبول (ویب ڈیسک)

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے ہاں اسرائیل سے درآمد کردہ قدرتی گیس استعمال کر سکتا ہے اور تل ابیب کے ساتھ مل کر اسرائیلی گیس یورپ بھی پہنچا سکتا ہے۔ اسرائیلی صدر عنقریب ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جرمن ٹی وی کے مطابق ترک میڈیا نے جمعہ چار فروری کے روز صدر ایردوآن کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ترکی اور اسرائیل اسرائیلی قدرتی گیس یورپ پہنچانے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں اس ممکنہ تعاون پر اگلے ماہ ہونے والے دوطرفہ مذاکرات میں بات کی جائے گی۔ترکی اور اسرائیل نے 2018 میں دوطرفہ کشیدگی کے بعد اپنے ہاں سے ایک دوسرے کے سفیروں کو بے دخل کر دیا تھا۔ انقرہ نے تب مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے پر اسرائیلی قبضے اور اسرائیل کی فلسطینیوں سے متعلق پالیسیوں کی مذمت کی تھی جبکہ اسرائیل نے مطالبہ کیا تھا کہ ترکی غزہ پر حکمران فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی حمایت بند کرے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بہت کشیدہ رہے تھے۔ترکی اور اسرائیل دونوں ہی علاقائی طاقتیں ہیں اور 2020 میں ترکی نے اپنی وہ پیش رفت شروع کر دی تھی، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ روابط کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ تھا۔برسوں کی کشیدگی کے بعد بہتر ہو جانے والے دوطرفہ ماحول کا ایک نتیجہ یہ بھی تھا کہ ترک صدر ایردوآن نے جمعرات تین فروری کو یہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیرسوگ مارچ کے وسط میں ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے۔صدر رجب طیب ایردوآن نے چار فروری کو اپنے یوکرائن کے دورے سے واپسی پر انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم اسرائیلی قدرتی گیس کو اپنے ملک میں استعمال کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ہم ایسی مشترکہ کوشش کا حصہ بھی بن سکتے ہیں جس کا مقصد اسرائیل سے برآمد کردہ قدرتی گیس کو یورپ تک پہنچانا ہو۔ترک ٹیلی وژن اداروں نے اپنی نشریات میں صدر ایردوآن کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا، ”اب، انشااللہ، یہ معاملات اسرائیلی صدر ہیرسوگ کے دورہ ترکی کے دوران مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔فلسطینی حکام اور حماس کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کیا گیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے آپسی اختلافات پس پشت ڈال کر ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ فلسطین نے متحدہ عرب امارات سے اپنا سفیر بھی فوری طور پر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جب خطے کے اہم ممالک اسرائیل کے ساتھ معاہدے کر لیں گے تو فلسطینیوں کو بھی آخرکار مذاکرات کرنا پڑیں گے۔اسرائیل میں ملکی صدر کا منصب زیادہ تر ایک رسمی عہدہ ہوتا ہے اور عمومی کشیدگی کے ماحول میں ایردوآن پہلے بھی اسرائیلی ہم منصب سے بات کر چکے ہیں۔ اس تناظر میں زیادہ اہم بات گزشتہ برس نومبر میں صدر رجب طیب ایردوآن کی اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو تھی، جو کئی برسوں بعد اپنی نوعیت کا پہلا دوطرفہ رابطہ تھی۔ترک صدر ایردوآن نے دو فروری بدھ کے روز عراقی کردستان کے نیم خود مختار علاقے کے صدر نوشیروان بارزانی سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس بارے میں جب ایردوآن سے پوچھا گیا کہ انہوں نے بارزانی سے کیا گفتگو کی تھی، تو ترک صدر نے کہا کہ انقرہ عراق کے ساتھ قدرتی گیس کی سپلائی کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اس بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔رجب طیب ایردوآن نے صحافیوں کو بتایا، ”ہم نے عراق کے معاملے کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے اور اس پر غور کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ عراق سے ترکی کو قدرتی گیس کی ترسیل بھی شروع ہو جائے۔ ترک سربراہ مملکت نے کہا کہ عراقی کردستان کے صدر بارزانی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔

By Editor