کراچی  (ویب ڈیسک)

بینک دولت پاکستان نے باضابطہ ذرائع سے ترسیلات زر کا بہا بڑھانے اور بین البینک مارکیٹ میں زر مبادلہ کی سیالیت بہتر بنانے کے لیے حکومت پاکستان سے مل کر وقتا فوقتا مختلف پالیسی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ اسی جذبے کے تسلسل میں اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی منظوری سے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایکسچینج کمپنیوں کو موصول ہونے والی 100 فیصد ترسیلات زر انٹربینک مارکیٹ میں شامل کرنی ہوں گی اور ہر شامل کردہ امریکی ڈالر کے عوض انہیں ایک روپیہ ملے گا۔ایکسچینج کمپنیاں منی ٹرانسفر آپریٹرز کی مدد سے ترسیلات زر ملک کے اندر بینکوں میں اپنے اکانٹس میں لاتی ہیں ۔ قبل ازیں ایکسچینج کمپنیوں پر لازم تھا کہ وہ ترسیلات زر کا کم از کم 15 فیصد انٹربینک مارکیٹ میں شامل کریں۔ اسکیم پر عملدرآمد کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیو ں کی جانب سے آنے والی ترسیلات سے متعلق ضابطے میں ترمیم کردی ہے۔ اب ایکسچینج کمپنیاں آنے والی ترسیلات زر کی مد میں موصولہ 100 فیصد زر مبادلہ مساوی امریکی ڈالر میں اسی روز انٹربینک مارکیٹ میں شامل کریں گی۔چونکہ ایکسچینج کمپنیاں کافی  مقدار میں آنے والی ترسیلات زر وصول کرتی ہیں اس لیے اس اسکیم سے انٹربینک مارکیٹ میں زر مبادلہ کی سیالیت بہتر ہوگی اور فراہم کردہ ترغیب سے متوقع طور پر تمام ایکسچینج کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ مزید ترسیل کنندگان اور پاکستان میں ان کے وصول کنندگان سے رابطے کریں اور زیادہ سے زیادہ ترسیلات زر لانے کی کوشش کریں۔

By Editor