اسلام آباد (ویب ڈیسک)

ترجمان وزراتِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ کرنسی کی قدر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی بڑھی ہے،پاکستان کی بر آمدات میں 18فیصد اضافہ اور درآمدات میں 23 فیصد کمی ہوئی، اب ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ کورونا کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے سے پاکستان بھی متاثر ہوا، ہم جو اشیا درآمد کررہے ہیں ان میں مشکلات کا سامنا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے کئی ممالک کی کرنسی کی ویلیو کم ہوئی، پاکستان کی کرنسی میں تسلسل دیکھنے کو آرہا ہے، روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔وزارت خرانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں مہنگائی نہیں بڑھی، کھانے پینے کی چیزیں اور گھل جانے والی اشیا کی قیمتیں بھی برقرار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی بر آمدات میں 18فیصد اضافہ اور درآمدات میں 23 فیصد کمی ہوئی، جس سے اب ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوگا۔ترجمان وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کے دوران پاکستان کے ذخائر بلند ترین سطح پر رہے، ہمارا خسارہ پانچ ارب ڈالرز سے کم ہوکر اب تین ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال انڈوں اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام رہا، اب ہمیں چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ ملک میں وافر مقدار میں چینی موجود ہے جو اس وقت پاکستان میں 83روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں استعمال ہونے والا 80فیصد کوکنگ آئل ہم درآمد کرتے ہیں، جس کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے جبکہ اب ہمیں  گندم باہر سے منگوانی نہیں پڑے گی۔

By Editor