انڈسٹری اور جامعات کو قریب لانے کیلئے آئی سی سی آئی میں ایچ ای سی کے تعاون سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد
صنعتی شعبے کے مسائل حل کرنے میں یونیورسٹیوں کا کردار بڑھانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر شائستہ سہیل
تیز رفتار معاشی ترقی کیلئے مضبوط اکیڈمیا انڈسٹری روابط کا فروغ اشد ضروری ہے۔ شکیل منیر
صنعتوں کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنے میں یونیورسٹیاں تعاون کریں۔ میاں اکرم فرید

اسلام آباد ( ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے اکیڈمیا انڈسٹری روابط کو بہتر فروغ دینے کے لیے ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں نسٹ یونیورسٹی، کامسیٹس، بحریہ، فاسٹ، قائداعظم، رفاہ یونیورسٹی، فاؤنڈیشن یونیورسٹی، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی،انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی، زیبسٹ یونیورسٹی، کسٹ یونیورسٹی، نیشنل سکلز یونیورسٹی، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سا ئنسز، وفاقی اردو یونیورسٹی اور ایئر یونیورسٹی سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے ریکٹرز، ڈینز، ڈائریکٹرز اور دیگر نمائندگان سمیت مقامی صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد انڈسٹری اور اکیڈمیا کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر دونوں شعبوں کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دینا تھا۔ دونوں اطراف کے نمائندگان نے اکیڈیمیا اور انڈسٹری روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل مدت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ان اہم چیلنجوں پر بھی بات چیت کی جن کو حل کر کے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا یا جا سکتا ہے اور صنعتوں کی ضرورت کے مطابق طلبا تیار کئے جا سکتے ہیں۔ کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایچ ای سی ڈگری پروگاموں کیلئے تھری پلس ون کا فارمولا منظور کرنے پر غور کرے جس کے تحت طلبا کو تین سال تک یونیورسٹی میں تعلیم دی جائے اور ایک سال وہ انڈسٹری میں کام کریں تا کہ ان کو عملی تجربہ حاصل ہو اور وہ صنعتوں کی ہیومین ریسورس ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکیں اور جاب مارکیٹ میں ان کی کھپت بہتر ہو۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل نے کہا کہ ایچ ای سی نے اکیڈمیا انڈسٹری کے روابط کو بہتر بنانے کے لیے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ میٹنگز کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے تا کہ یونیورسٹیوں اور انڈسٹری کو قریب لا یا جائے اور صنعتی شعبے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے یونیورسٹیوں کے کردار کو مزید فعال بنایا جائے۔ اس سے یونیورسٹیاں بھی صنعتی شعبے کی ضرورت کے مطابق طلبا تیار کر سکیں گی اور صنعتی شعبے کو مطلوبہ معیار کی ہیومین ریسورس فراہم ہونے سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا جبکہ معیشت بہتر ترقی کرے گی۔ انہوں نے اس موقع پر ایچ ای سی کی طرف سے تحقیق کے لیے یونیورسٹیوں کو فراہم کی جانے والی مختلف گرانٹس کے بارے میں ایک پریزنٹیشن بھی دی۔
ایچ ای سی کے ممبر ڈاکٹر اکرم شیخ نے کہا کہ حکومت نالج اکانومی کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے اوراکیڈمیا انڈسٹری روابط کو فروغ دے کر ہی یہ ہد ف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ضیاع کی وجہ سے ملک کا 25 فیصد جی ڈی پی ضائع ہو رہا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیاں اور صنعتیں مل کر اس ضیاع پر قابو پانے کی کوشش کریں جس سے مجموعی قومی پیداوار میں کافی بہتری آئے گی۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے انڈسٹری اکیڈمیا کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دے کر تیز رفتار اقتصادی ترقی حاصل کی ہے اور پاکستان کو بھی اپنی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے یہی طریقہ اپنانا ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹیوں اور انڈسٹری کے روابط کو بہتر بنانے کے لیے بورڈز آف یونیورسٹیز اور اکیڈمک کونسلز میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نصاب تیار کریں تاکہ صنعتوں کی ضرورت کے مطابق گریجویٹ تیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ممبران کی ایولیوایشن میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو کردار دیا جائے جس سے جو دونوں شعبوں کے درمیان روابط بہتر ہوں گے اور صنعتوں کی ضرورت کے مطابق طلبا تیار ہوں گے۔
فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین میاں اکرم فرید نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیاں صنعتی کارکردگی کو بہتر کرنے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے کے لیے صنعتی شعبے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی بہتر ترقی کے لیے سکل ڈیولپمنٹ اور پیشہ ورانہ تعلیم پر زیادہ توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری پروگراموں میں انڈسٹری کے فروغ سے متعلق کورسز کو بھی شامل کیا جائے۔
اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسینزئی نے معیشت کے دو اہم شعبوں کے درمیان روابط بہتر کرنے کیلئے آئی سی سی آئی اور ایچ ای سی کی کاوش کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی شعبے کے پیشہ ور ماہرین کو یونیورسٹیوں میں پروفیسر آف پریکٹس کے طور پر تعینات کیا جائے تا کہ وہ طلبا کی سکلز کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر، فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی، طارق صادق، ناصر قریشی اور یونیورسٹیوں کے ریکٹرز/ڈینز اور دیگر نمائندگان نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اکیڈمیا انڈسٹری روابط کو فروغ دینے کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔

By Editor