لاہور  (ویب ڈیسک)

حکومت قالین سازی کی صنعت کی سرپرستی کر کے دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نقل مکانی کو بھی روک سکتی ہے ،پاکستانی مصنوعات کی موثرمارکیٹنگ کیلئے بیرون ممالک نمائشوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جائے ،بیرون ممالک پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے مصنوعات ڈسپلے کرائی جائیں،برآمدات کی ترقی میں سفارتخانے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں جس کے لئے پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے ۔ پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پرویز حنیف ،وائس چیئرمین اعجاز الرحمان ،سینئر ایگویکٹو ممبر ریاض احمد اور سعید خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ قالین سازی ایسی صنعت ہے جس کا توانائی کے حصول کیلئے حکومت پر کوئی بوجھ نہیں بلکہ اس کا روزگار کی فراہمی کے ساتھ برآمدات میں بھی حصہ ہے ۔ برآمدات کے فروغ کیلئے حکومت تعاون فراہم کرے اور مختلف ممالک کے ساتھ نجی سطح پر وفود کے تبادلوں کویقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک پاکستان کے سفارتخا نے مقامی درآمدکنندگان سے ملاقاتیں کریں اوروہاں کے سپر سٹورز پر پاکستانی مصنوعات ڈسپلے کرائی جائیں اوراس کے لئے بہت سے ممالک کی پیروی کی جا سکتی ہے جو اس حکمت عملی کے ذریعے اربوں ڈالرز کی برآمدات کا حصول یقینی بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکو مت اگر اربنائزیشن روکنا چاہتی ہے تو ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

By Editor