لاہور (ویب ڈیسک)

پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کرونا وبا کی وجہ سے معاشی مسائل سے دوچار عوام پر یکم فروری سے مزیدپٹرول بم گرانے کی خبروں پر تشویش کا  اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  7سے10روپے مزید بڑھانے کی سمری  سراسر زیادتی ہے ۔ معیشت کو زبردست دھچکا لگے گا، پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا، سمری منظور نہ کی جائے۔ گزشستہ  6ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی 43روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھانے سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا ۔انتہائی کم آمدنی والے طبقے کے لئے مہنگائی کی شرح کا 21  فیصد سے تجاوز کر جانا باعث تشویش ہے، آئے روزمہنگائی سے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کی بجائے ریلیف دے اور کچھ عرصے کے لئے پٹرولیم مصنوعات ، بجلی و گیس کی قیمتیں منجمد کر دی جائیں۔ سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان نے وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجوزہ اضافے سے ملکی معیشت پر منفی اثرات آئیں گے ۔ تاجر و صنعتکار کی پیداواری لاگت میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔مہنگائی اور بیروزگاری  میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس ھساب سے لوگوں کی آمد ن میں اضافہ نہیں ہو پارہا۔کرونا وبا کی وجہ سے پچھلے چند ماہ کے دوران صنعت و تجارت سے وابستہ تمام شعبہ جات پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں ۔ ایسے حالات میں حکومت مہنگائی کرنے کی بجائے کاروباری طبقہ کو ریلیف دے، پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی بجائے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی شرح کم کرے، غیر پیداواری اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ پیداواری لاگت اور مہنگائی کم ہو سکے۔ میاں نعمان کبیر ے کہ کہ پٹرول صنعت و تجارت و زراعت کے لئے خام مال کا درجہ رکھتا ہے اور اسکی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور فیول کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اورمہنگی بجلی ،مہنگی پیدوار کا باعث ہے جس سے ملک میں ہوشربا مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے صنعتکاروں کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ حکومت کے ریونیو میں بھی کمی واقع ہورہی ہےـ

By Editor