آذربائیجان کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری، مشترکہ شراکت داری کے ذریعے سی پیک میں شامل ہوں، محمد ادریس

کراچی (ویب ڈیسک)

آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پیش کیے جانے والے ممکنہ مواقع اور مراعات کو اجاگر کرتے ہوئے کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کو الات فری اکنامک زون( اے ایف ای زیڈ) میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی دعوت دی ہے جہاں کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس یا کوئی اور کارپوریٹ ٹیکس لاگو نہیں ہے اور غیر ملکی ملکیت پر کوئی پابندی بھی نہیںہے۔ پاکستانی سرمایہ کار آذربائیجان میں اپنے کاروباری یونٹس قائم کر کے مکمل انفرااسٹرکچر، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات کی دستیابی کے علاوہ ضابطے میں کمی اور میکرو اکنامک ماحول ، انسانی سرمائے، لیبر مارکیٹ،انفرااسٹرکچر اور یوٹیلٹیز، سرمایہ کاروں کے تحفظ، غیر ملکی تجارت کی سہولت، ٹیکنالوجی اور اختراعات میں جاری اصلاحات کی وجہ سے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی کے چیئرمین ضیاء العارفین، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز، آذربائیجان سفارتخانے کی سیکنڈ سیکرٹری شہبالا کریموف، تھرڈ سیکرٹری، میڈیا اتاشی آذربائیجان ایمبیسی ایلچن مہدییف اور کے سی سی آئی کی مینیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔آذربائیجان کے سفیر نے کہا کہ آذربائیجان میں مجموعی طور پر 2137 پاکستانی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جو صنعتی، تجارتی خدمات، تعمیراتی، نقل و حمل اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت اہم شعبوں میں فعال ہیں جبکہ1995-2021کے دوران آذربائیجان میں پاکستانی کمپنیوں کی مجموعی سرمایہ کاری 4.2 ملین ڈالر رہی ہے۔ آذربائیجان 10.1 ملین کی آبادی ، فی کس جی ڈی پی3693  ڈالر اور نان آئل سیکٹر میں 14.8 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ کراچی کی تاجر برادری کو زرعی، تعمیرات، پیٹرو کیمیکلز، قابل تجدید ذرائع، نقل و حمل، ڈیجیٹل معیشت اور سیاحت کے شعبوں میں منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔               انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مواقعوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تاجر کپڑے اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات، آپٹک اور میڈیکل آلات، فارماسیوٹیکل مصنوعات، چاول، آم، کیلے اور پھل برآمد کر سکتے ہیں جبکہ آذربائیجان کاٹن اور کاٹن یارن، ایتھلین یا پروپلین کے پولیمرز، کالی قہوے والی چائے، ٹماٹر، ہیزل نٹ، اسٹرابری، بیریز، سبزیاں، فروٹ جوسز اور سو سز وغیرہ برآمد کر سکتا ہے۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے کہا کہ 2020 کے دوران آذربائیجان کو پاکستان کی برآمدات 11.63 ملین ڈالر اور درآمدات کا مجموعی حجم 1.66 ملین ڈالر رہا جو کہ بہت کم اور حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کے فروغ، اقتصادی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کی سطح پر وفود کے تبادلے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بہت زیادہ صلاحیت کی حامل دیگر مختلف مصنوعات کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فارماسیوٹیکل، کنفیکشنری آئٹمز، کھجور، آئرن اور کی فلیٹ رولڈ پروڈکٹس یا  نان الائے اسٹیل، پلاسٹک، کیمیکلز پر توجہ مرکوز کر کے تجارت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں تعمیراتی شعبہ آذربائیجان کی معیشت کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے اور پاکستان اعلیٰ معیار کے سیمنٹ کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔اس لیے ہم آذربائیجان کو اس کی تعمیراتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ ضروری خام مال فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان مختلف زرعی مصنوعات پیدا کرتا ہے جس میں کپاس، اناج، زیتون، چینی، چقندر، ہیزل نٹ، دالیں، لیموں اور مویشی وغیرہ بھی شامل ہیں جن کی پاکستان میں بہت زیادہ مانگ ہے یہ اشیاء آذربائیجان کی طرف سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان فارماسیوٹیکل، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ پاکستان آذربائیجان کو اپنی ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات جیسے باسمتی چاول، آم، پھل، کھیل اور سرجیکل سامان بھی برآمد کر سکتا ہے۔221 ملین سے زیادہ آبادی کے ساتھ پاکستان آذربائیجان کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو منافع بخش مارکیٹ کی پیشکش کرتا ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے آذربائیجان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے اور سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سی پیک منصوبے میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے آذربائیجان کی تاجر برادری کو مارچ 2022 میں منعقد ہونے والی مائی کراچی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ یہ میگا ایونٹ تاجروں کو بی ٹو بی میٹنگز اور ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے جو تجارت کے فروغ کے لیے ون ونڈو کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

By Editor