شام پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی و اقتصادی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر مازن عبید
باہمی تجارت کو بہتر کرنے کیلئے دونوں ممالک تجارتی وفود کا تبادلہ بڑھائیں۔ محمد شکیل منیر
پاکستان اور شام متعدد شعبوں میں باہمی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ میاں اکرم فرید

اسلام آباد (ویب نیوز)

پاکستان میں تعینات شام کے سفیر ڈاکٹر مازن عبید نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ دونوں ممالک کئی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام اور پاکستان نے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے اور تعلیم کے شعبے میں حال ہی میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں لہذا دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان اقدامات پر آگے بڑھنا ضروری ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو بہتر فروغ دینے کے لیے پاکستان شام بزنس کونسل کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے شام کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں شروع کر دی ہیں اور امید ظاہر کی کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے باہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ملک میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں شرکت کرنے کی کوشش کریں۔


ڈاکٹر مازن عبید نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری مسلح تصادم کی وجہ سے شام اب تعمیر نو کے مرحلے میں ہے اور پاکستان کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ شام کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شام کو بہت سی مصنوعات فراہم کر سکتا ہے جن میں ادویات کا خام مال، آلات جراحی، فوڈ پراڈکٹس، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مصنوعات و سروسز اور سولر پینلز شامل ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال شام کو طبی امداد فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شام اپنی مشکلات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی طرف سے کسی بھی قسم کی مدد کا ہمیشہ خیر مقدم کرے گا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری شام کے عوام کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کو صلاحیت کے مطابق فروغ دینے کیلئے دونوں ممالک تجارتی وفود کا تبادلہ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہت سی مصنوعات بشمول ماربل اینڈ گرینائٹ، فارماسیوٹیکل، چمڑے کی مصنوعات، فوڈ پراڈکٹس، سٹیل، سیمنٹ، آئی ٹی، لائٹ انجینئرنگ شام کی مارکیٹ میں بہت مقام حاصل کر سکتی ہے لہذا شام پاکستان سے ان مصنوعات کو درآمد کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے پی آئی اے کی جانب سے پاکستان اور شام کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی کو خوش آئند قرار دیا کیونکہ اس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی پاکستان اور شام کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے شام کے سفارت خانے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین میاں اکرم فرید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور شام سیاحت، صحت اور ایس ایم ایز سمیت دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کاروباری تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کاروباری شراکتوں، سرمایہ کاری کے منصوبوں، تجارتی معاہدوں کو فروغ دینے اور نمائشوں کے انعقاد پر توجہ د یں جس سے دونوں کیلئے فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔ سعید خان، علی اکرم خان، ہمایوں کبیر، شیخ اعجاز، اختر حسین، محمد شبیر، خالد چوہدری اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

By Editor