سولر انرجی پر بیس فیصد سے زائد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے اس شعبے کی ترقی متاثر ہو گی حکومت نظرثانی کرے۔ محمد شکیل منیر
ٹیکس چھوٹ واپس لینے سے 2030تک کل توانائی میں رینیو ایبل انرجی کا حصہ 30فیصد کرنا مشکل ہو گا

اسلام آباد (ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ حکومت نے 2030تک توانائی کی کل پیداوار میں رینیوایبل انرجی کا حصہ 30فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا ہوا ہے تاہم منی بجٹ کے تحت ٹیکس چھوٹ واپس لے کر سولر پینلز، سولرانورٹرز اور متعلقہ آلات پر سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جس وجہ سے صارف کومجموعی طور پر تقریبا 21سے25فیصد ٹیکس دینا پڑے گا جس سے نہ صرت حکومت کیلئے اپنا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا بلکہ رینیو ایبل شعبے کی ترقی بھی بہت متاثر ہو گی جو معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ سولر شعبے پر سیلز ٹیکس کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے تا کہ یہ شعبہ بہتر ترقی کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی سی سی آئی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن اوررینیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن کے عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔


محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان تقریبا ساٹھ فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا کرتا ہے جس میں درآمدی تیل کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہماری بجلی کی قیمت اور پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جس وجہ سے ہمارے برآمد کنندگان کیلئے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دور میں سولر اور ونڈ سمیت رینیوایبل انرجی کو ہر طرح کے امپورٹ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا تھا جس وجہ سے اس شعبے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری فروغ پانا شروع ہو گئی تھی لیکن حکومت کی طرف سے اس شعبے پر سیلز ٹیکس کے نفاذ سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑا دھچکا لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریبا چھ کروڑ آبادی بجلی کی سہولت سے محروم ہے جبکہ سولر انرجی دیہی اور دور دراز علاقوں میں سستی بجلی فراہم کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہیں تاہم اس شعبے پر ٹیکس کے نفاذ سے نہ صرف اس شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ خاص طور پر دیہی علاقوں کے عوام سستی بجلی کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں 2021میں تقریبا 1600میگاواٹسے زائد کی سولر ایکوپمنٹ درآمد کی گئی جس میں سے تقریبا 130سے 160میگاواٹ نیٹ میٹرنگ والے سولر سسٹم تھے اور کسانوں نے اپنی زمینوں کو پانی دینے کیلئے سولر ٹیوب ویل لگائے ہوئے ہیں جبکہ دیہاتوں میں بھی مکانوں اور دکانوں کی چھتوں پر سولر پینل لگا کر بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت کے موجودہ اقدام سے ان سب کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ بیان دیا تھا کہ سولر پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا لیکن جب امپورٹرز نے کلیئرنس کیلئے گڈز ڈیکلریشنز فائل کیں تو پتہ چلا کہ سیل ٹیکس کے بغیر ان کی کلیئرنس نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے سینکڑوں شپ منٹس کے کنٹینرزپھنسے ہوئے ہیں جس سے اس شعبے کے کاروباری طبقے کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے گرین پاکستان کے ویژن کو بھی دھچکا لگے گا لہذا انہوں نے تمام متعلقہ حکومتی عہدیداران سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لیں اور وزیر اعظم کے گرین انرجی ویژن کے بہتر فورغ اور ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں سولر شعبے پر سیل ٹیکس کو فوری ختم کیا جائے۔


آئی سی سی آئی کے نائب صدر فہیم خان، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور رینیو ایبل انرجی ایسوایشن کے نمائندگان عامر حسین اور فہیم اشرف نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا دس لاکھ ٹیب ویل ہیں جن میں سے بہت سے سولر انرجی پر شفٹ ہو گئے ہیں لہذا سیلز ٹیکس کے نفاذ سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سی صنعتوں نے اپنی بجلی کی ضروریات پورا کرنے کیلئے سولر انرجی کو اپنایا ہے لیکن ٹیکس کے نفاذ سے ان کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا جبکہ ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سولر انرجی شعبے پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کو فوری واپس لے تاکہ یہ شعبہ بہتر ترقی کر کے معیشت کو فروغ دینے میں مزید موثر کردار ادا کر سکے۔

By Editor