سری لنکا پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ڈاکٹر بندولا گناوردھنے
پاکستان کی متعدد مصنوعات سری لنکا کی مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔ محمد شکیل منیر
تجارتی وفود کا تبادلہ بڑھا کر دوطرفہ تجارت میں بہتر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جمشید اختر شیخ، فہیم خان

اسلام آباد ( ویب نیوز )

سری لنکا کے وزیر تجارت ڈاکٹر بندولا گنا وردھنے نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں سری لنکا کا دیرینہ دوست اور اہم تجارتی پارٹنر ہے اور سری لنکا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے جس سے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے سری لنکا کے ایک تجارتی وفد کی قیادت میں آئی سی سی آئی کا دورہ کیا تاکہ مقامی بزنس کمیونٹی کے ساتھ براہ راست ملاقات کر کے باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے جائیں۔ سری لنکا کے علاقائی تعاون کے وزیر مملکت تھراکا بالاسوریا، اقتصادی امور ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سج مینڈس، سری لنکا میں پاک ہائی کمیشن کی ٹریڈ سیکرٹری محترمہ اسماء کمال اور پاکستان میں سری لنکا کے قائم مقام ہائی کمشنر یو ایل نیاس بھی سری لنکا کے وفد کے ہمراہ اس موقع پرموجود تھے۔


ڈاکٹر بندولا گناوردھنے نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے نے دوطرفہ تجارت کو بہتر کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے تاہم اس معاہدے سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے دونوں طرف سے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی پاکستان کو سرفہرست برآمدات میں پان کے پتے، خواتین کے کپڑے، ناریل کی مصنوعات، ایم ڈی ایف اور فائبر بورڈز، ٹیکسٹائل مصنوعات، الیکٹریکل اور الیکٹرانک کا سامان شامل ہیں جبکہ سری لنکا کو پاکستان کی اہم برآمدات میں بنے ہوئے کپڑے، معدنی مصنوعات، اناج، فارما سوٹیکلز مصنوعات اور آلو شامل ہیں لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کو بہتر بنانے کے لیے مزید مصنوعات میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرنے پر توجہ دیں۔
سری لنکا کے علاقائی تعاون کے وزیر مملکت تھراکا بالاسوریا نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کا قابل اعتماد دوست ہے کیونکہ ہر مشکل وقت میں اس نے سری لنکا کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، معدنیات اور الیکٹریکل گاڑیوں سمیت متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے کوشش تیز کی جائیں۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ سری لنکا میں قائم اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کریں۔
سری لنکا میں پاکستان ہائی کمیشن کی ٹریڈ سیکرٹری محترمہ اسماء کمال نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو بڑھانا چاہتا ہے کیونکہ تجارت کا موجودہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کے بہتر فروغ کے لیے دونوں ممالک ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کریں اور آزاد تجارت کے معاہدے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں جس سے دونوں کیلئے فائد مند نتائج برآمد ہوں گے۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ سری لنکا پہلا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے 2005 میں آزاد تجارت کا معاہدہ کیا تھا تاہم دونوں ممالک نے تجارت میں توسیع کے لیے ابھی تک اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے آزاد تجارت کے معاہدے کے نفاذ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے پاکستان اور سری لنکا دوطرفہ تجارت کو موجودہ چوالیس پینتالیس کروڑ ڈالر سے بڑھا کر دو سے تین ارب ڈالر سالانہ تک لے جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہت سی مصنوعات بشمول ماربل اینڈ گرینائٹ، باسمتی چاول، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، پھل و سبزیاں اور دیگر سری لنکا کی مارکیٹ میں بہتر مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں لہذا سری لنکا پاکستان سے ان مصنوعات کی درآمد بڑھانے کی کوشش کرے۔
چیمبر کے سینئر نائب صدرجمشید اختر شیخ، نائب صدر محمد فہیم خان، سابق صدر زبیر اے ملک اور دیگر نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک باقاعدگی کے ساتھ تجارتی وفود کا تبادلہ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں جس سے باہمی تجارت صلاحیت کے مطابق فروغ پائے گی۔ اجلاس کے بعد دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں کاروباری تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے بی ٹو بی میٹنگز منعقد کیں۔

By Editor