راولپنڈی  (ویب ڈیسک)

راولپنڈ ی چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر شیخ آصف ادریس نے فنانس سپلیمنٹری ایکٹ سال 2022اور منی بجٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجربرادری معیشت کو دستاویز ی شکل دینے کے خلاف نہیں ہے کاروباری برادری کو ڈھائی لاکھ روپے کے اخراجات ڈیجیٹل طریقے سے ادا کرنے پر بھی شدید تحفظات سپلیمنٹری بل میں کئی غیر ضروری ترامیم لائی گئی ہیں جن کا مقصد ڈاکومنٹیشن کی بجائے ہراسیت میں اضافے کا امکان زیادہ ہے۔ پہلے سے موجود ٹیکس کنندگان پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے ملک میںپہلی بار سپلیمنٹری بل میں اتنی زیادہ ترامیم لائی گئیں ہیں ایسی ترامیم مالیاتی بل میں لائی جاتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے قائمہ کمیٹی برائے ٹیکس امور کا اجلاس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیخ آصف ادریس نے کہا کہ بدقسمتی سے سٹیک ہولڈرز  کے ساتھ مشاورت کے بغیر بجٹ سازی کی جاتی ہے اس وقت بنکوں کے پاس ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقہ کارکا اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں ہے نیز کارپوریٹ سیکٹر کے پاس بھی مطلوبہ انفارمیشن اور صلاحیت نہیں ہے کارپوریٹ سیکٹر کے پاس بھی مطلوبہ انفارمیشن اور صلاحیت نہیں ہے معروضی حالات میں یہ قابل عمل نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کریڈٹ پر خرید و فروخت کے لیے اگلی تاریخوں میں ادائیگی کے لیے چیک قابل استعمال نہیں رہیں گے کھانے پینے کی اشیائ، مشینری، سولر، پولٹری، بیکری آئٹمز، سٹیل ، سونا چاندی ، ہسپتال، ادویات، دودھ، انڈے تک جن پر ٹیکس چھوٹ تھی یا کم سے کم ٹیکس تھا بڑھا کر 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے عام آدمی اور تاجر پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے۔ انہوںنے کہا کہ افراط زر کی شرح اب ڈبل د یجٹ ہو چکی ہے۔ اس اقدا م سے معیشت سکڑ جائے گی اور جمود کا شکار ہو جائے گی صحت کے شعبے میں طبی آلات، دوائیوں میں استعمال ہونے والے خام مال پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے جس سے علاج معالجہ  نہ صرف مہنگا ہوگا بلکہ کاروباری برادری سمیت عام آدمی پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔

By Editor