ٹریڈ باڈیز نے دفاتر میں افریقی ڈیسک قائم کریں،صدریوبی جی کی تجویز

تجارتی تنظیموں /ٹریڈ باڈیز کو افریقہ میں ممکنہ مارکیٹیں تلاش کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے

افریقی منڈیوں کی تلاش سے خطرات کم کرکے پاکستان زیادہ فوائد حاصل کر سکتا ہے،زبیرایف طفیل

کراچی (ویب  نیوز)یونائیٹڈ بزنس گروپ ( یو بی جی) نے پاکستان بھر کی تمام تجارتی تنظیموں /ٹریڈ باڈیز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں افریقی ڈیسک قائم کریں تاکہ صنعتکاروں کو افریقی خطے کے مواقع کو تلاش کرنے اور ان سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ یو بی جی نے انکشاف کیا کہ افریقی خطے میں چین اور بھارت کی برآمدات بالترتیب 90ارب ڈالر اور 30ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان سے برآمدات کو حجم بمشکل 1.5ارب ڈالر ہے۔ چین اور بھارت کی بڑی برآمدات کی بنیادی وجہ افریقی ممالک میں ان کی مسلسل موجودگی اور جارحانہ مارکیٹنگ ہے۔ اس ضمن میں یو بی جی کے صدر زبیرطفیل  نے کہا کہ پاکستان کی تجارتی تنظیموں /ٹریڈ باڈیز کو افریقہ میں ممکنہ مارکیٹیں تلاش کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے۔ یو بی جی کے مطابق افریقی خطے میں پاکستان کی مختلف اشیاء کی تجارت کا حجم گزشتہ کئی سالوں سے 4ارب ڈالر سالانہ تک  منجمد ہے۔ یو بی جی نے تجویز دی ہے ‘لک افریقہ مہم’ کے ذریعہ پاکستانی ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے حکومت ٹریڈ باڈیزکی مشاورت سے حکمت عملی طے کرے تاکہ پاکستان اپنی پوری صلاحیت کو بروئے کار لاسکے۔ انہوں نے کہا کہ فارما سیوٹیکل مصنوعات، اناج، ٹیکسٹائل، مشینری اور چمڑے کی مصنوعات چین اور بھارت کی افریقی ممالک کی اہم برآمدات ہیں جبکہ پاکستان کو ان تمام مصنوعات میں مسابقتی برتری حاصل ہے اور افریقی منڈیوں کی تلاش سے پاکستان بے یقینی کے خطرات کو کم کرکے برآمدات میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان افریقہ کو بنیادی طور پر اناج، کپاس، ٹیکسٹائل مصنوعات، چینی، اور کاغذ کی پروڈکٹس برآمد کر رہا ہے اور افریقی خطہ سے چائے، کافی، خام ٹیل، لوہا، اسٹیل، ان آرگینک کیمیکلز اور کپاس درآمد کر رہا ہے۔ صدریو بی جی کا مزید کہنا ہے کہ افریقی خطہ میں پاکستانی چاول، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات، لائٹ انجینئرنگ، الیکٹرانک مصنوعات بشمول ٹریکٹر اور زرعی آلات، گاڑیوں ، کمرشل اور گھریلوپنکھے، واٹر پمپس، الیکٹرکل مشینری اور آلات وغیرہ کی ممکنہ مارکیٹ سے بھرپور استفادہ حاصل کرسکتا ہے۔ افریقہ قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور اسے دنیا کا اسٹریٹجک خام مال کا ذخیردہ بھی کہا جاتا ہے۔ یو بی جی نے زور دیا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان معلومات کا فقدان ، باہمی افہام و تفہیم، کاروباری تعلقات ، بزنس ٹو بزنس اور عوام کے روابط کم اقتصادی تعلقات کی بنیاد ہیں۔ پاکستان کی ٹریڈ باڈیز افریقی ممالک میں پاکستانی تجارتی مشنوں کے ذریعہ اپنے افریقی ہم منصبوں کے ساتھ مشاورت کو فروغ دیں۔ زبیرطفیل نے مزید کہا کہ پاکستان کی ٹریڈ باڈیز کو پاکستان کی سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے جن میں الجیریا، مصر، ایتھوپیا، سینیگال، سوڈان، تنزانیہ، کینیا، مراکش، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ شامل ہیں جن کے تجارتی وفود کے دوروں کا اہتمام کرکے پاکستان کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی ممکن بنائی جائے۔

 

By Editor