وفاقی ٹیکس محتسب تاجر برادری کی ٹیکس شکایات کے جلد ازالے کیلئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ
ایسا ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جو کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہو۔ محمد شکیل منیر
اسلام آباد (ویب نیوز )

وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا کہ تاجر برادری معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کا ادارہ ان کی ٹیکس شکایات کا جلد ازالہ کر کے انہیں فوری، منصفانہ اوربلا معاوضہ انصاف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے تا کہ وہ معاشی ترقی میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس شکایات کے ازالے کی زیادہ سے زیادہ مدت 60 دن ہے تاہم ان کی خواہش ہے ٹیکس دہندگان کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے یہ کام 60 گھنٹے میں کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب کے او ایڈوائزرز اور ایف بی آر کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب ٹیکس دہندگان اور محکمہ ٹیکس کے درمیان ایک پل کا کام کر رہا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ادارہ ٹیکس دہندگان کی جائز ٹیکس شکایات کے جلد حل کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے وفاقی ٹیکس محتسب کے دفاتر کا نیٹ ورک مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کے پورٹل کو وی باک اور پرال کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اور ٹیکس دہندگان کو اپنی ٹیکس شکایات کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک موبائل ایپ بھی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ ٹیکس شکایات کے ازالے کیلئے ان کے ادارے کی خدمات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر فروغ دے سکیں۔ انہوں نے کاروباری برادری کی سہولت کے لیے چیمبر میں وفاقی ٹیکس محتسب کے سہولت سنٹر کا بھی افتتاح کیا تا کہ تاجر برادری ٹیکس مسائل کے بہتر حل کیلئے اس سے استفادہ حاصل کر سکے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے ٹیکس دہندگان کو سستا انصاف فراہم کرنے اور ان کی ٹیکس شکایات کا جلد ازالہ کرنے کیلئے وفاقی ٹیکس محتسب کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب بزنس کوآرڈ نیٹرز کے عہدوں کو تشکیل دے رہا ہے جس میں آئی سی سی آئی کو بھی نمائندگی دی جائے گی جو کہ ایک بہت ہی مثبت قدم ہے کیونکہ اس سے ٹیکس دہندگان کی شکایات زیادہ بہتر انداز میں حل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام بہت پیچیدہ اور مشکل ہے جس وجہ سے یہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے میں زیادہ سازگار نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ایک ایسا ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے جو کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو جس سے ملک کے ٹیکس ریونیو میں خودبخود اضافہ ہوگا۔
جمشید اختر شیخ، سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان، نائب صدر آئی سی سی آئی نے بھی تاجر برادری کی ٹیکس شکایات کے جلد ازالے کیلئے وفاقی ٹیکس محتسب کے کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ آئی سی سی آئی اور وفاقی ٹیکس محتسب کے درمیان قریبی تعاون ٹیکس دہندگان کو مزید سہولت فراہم کرے گا۔
اس موقع پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بزنس کمیونٹی کے اراکین نے ٹیکس کے مختلف مسائل کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وفاقی ٹیکس محتسب ان کے بہتر حل کے لیے انہیں ایف بی آر کے ساتھ اٹھائے۔ انہوں نے ٹیکس کے موجودہ نظام کو مزید بہتر بنانے اورٹیکس اصلاحات کیلئے بھی مفید تجاویز پیش کیں جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب نے ان پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

By Editor