کورونا وبا سے متاثرہ سمال سکیل اور کاٹیج انڈسٹری پرغیر ضروری ٹیکسز ختم کر دیے جائیں:   پیاف عہدیداران

لاہور (ویب ڈیسک)

سینئر وائس چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)  ناصر حمید خان نے وائس چیئرمین پیاف جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ گلبرگ آفس میں تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایس ایم ایز کیلئے 5 سالہ پالیسی خوش آئند ہے اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان کا پالیسی کی کامیابی  میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کیلئے سخت وارننگ دینا خوش آئند ہے۔ وزیر اعظم نے برآمدات میں رکاوٹیں پیدا کرنے پرمحکموں اور متعلقہ افراد کو سخت کاروائی سے خبردار کیا ہے اور یہ پالیسی کو کامیاب بنانے کے لئے درست سمت ایک قدم ہے۔ صنعتوں کے فروغ اور بیروز گاری کم کرنے کے لئے حکومت کا اس پالیسی کو کامیاب بنانا از حد ضروری ہے۔سمال انڈسٹری معیشت کا اہم ستون ہے تاہم مہنگی توانائی،بے جا ٹیکسز اور سستی درآمدی اشیاء کی بھرمار اور کورونا وبا نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو خاصا نقصان پہچایا ہے۔معیشت کے پہیہ چلانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ سمال سکیل اور کاٹیج انڈسٹری پرغیر ضروری ٹیکسز ختم کر دیے جائیں اور اس دائرے کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ اقتصادی سرگرمیاں بڑھیں۔پالیسی کے تحت سمال انڈسٹری کو ٹیکسوں میں 57 سے 83 فیصد تک چھوٹ ملے گی نیز انہیں این او سی کی بھی آزادی ہو گی۔ جبکہ خواتین کو تیکسوں میں 25 فیصد رعایت بھی خوش آئند ہے ،پالیسی کی کامیابی میں سمیڈا کو کردار بہت اہم ہے جسے تکنیکی مہارتوں، جدید ٹیکنالوجیز اور مانیٹرنگ و اویلیویشن جیسی خصوصیات سے لیس کیا جائے گا تاکہ پالیسی کو کامیاب بنایا جائے۔  چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں کسی بھی معیشت میں نہ صرف بیروزگاری کم کرتی ہیں بلکہ پاکستان جیسے زرعی و صنعتی ملک میں انکی شمولیت لازم و ملزوم ہے ۔ناصر حمیدنے کہا کہ سمال سکیل اور کاٹیج انڈسٹری کی ترقی کے لئے فی الفور اقدامات کئے جائیں ۔چھوٹے تاجر و صنعتکارکو ریلییف دینا اور کاروباری طبقہ کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔جاوید صدیقی نے کہا کہ نئے انڈسٹریل اسٹیٹس کے ساتھ ساتھ بیمار یونٹس کے revival کیلئے بھی کوشیشیں کی جایئں گی اور ان کی وجوہات پر کام کیا جائے گا۔ تمام کاروباری برادری کی مشاورت سے انڈسٹریز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور انڈسٹریل اسٹیٹس کے مسائل مرحلہ وار حل کروائے جائیں گے تاکہ صنعتی استعداد کار میں اضافی ممکن ہو سکے۔

By Editor