کراچی (ویب ڈیسک)

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)ڈاکٹر اشفاق احمد سے ملاقات کی ۔ملاقات میں انہوں نے بتایاکہ ایف بی آرکی طرف سے ایکسچینج کمپنیوں کو کروڑوں روپے کے غیر ضروری نوٹسسز بھیج کر ہراساں کیا جارہا ہے۔ خاص طور پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نوٹسسز جو 2016 میں پہلے ہی ایف بی آر نے اپنے لیٹر نمبر 1(143)STM 2016 کے تحت کر کے واپس لے لیئے تھے۔ اب دوبارہ ایکسچینج کمپنیوں کو یہ نوٹسسز بھیج دیئے ہیں۔ فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کے تحت 16فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد ڈالر کاریٹ 16فیصد بڑھ جائیگا اور پبلک ایکسچینج کمپنیوں کی بجائے بلیک مارکیٹ سے بغیر رسید کے خریدوفروخت کرے گی یہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف ساز ش ہی ،جس سے حکومت کی بدنامی کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ڈالر کا ریٹ 200 روپے سے بھی زیادہ ہو جائیگا۔ چیئرمینایف بی آر نے وعدہ کیاکہ ایف بی آر غیر ضروری نوٹسسز واپس لے لے گااور ایکسچینج کمپنیوں کو ہراساں نہیں کیا جائیگا۔ ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نوٹسسز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کی طرف سے پوائنٹ آف سیل کے نوٹس کے حوالے سے بھی چیئرمین ایف بی آر بتایا کہ تمام ایکسچینج کمپنیوں کے کائونٹر پر پہلے سے ہی پوائنٹ آف سیل سسٹم انسٹال ہیں۔ ہمیں نئے پوائنٹ آف سیل انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینککی اجازت سے نادرا کے ساتھ منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم تمام ممبران کے ساتھ مشاورت کے بعد اسٹیٹ بینک کو آگاہ کرینگے اگر ملکی مفاد میں ایکسچینج کمپنیوں کو کسٹمرکوجو فارن ایکسچینج فروخت کرتی ہیں ان کا ڈیٹاایف بی آر کے ساتھ منسلک کرنا ضروری ہے تو ہم اسٹیٹ بینک کو آگاہ کریںگے کیونکہ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک  نے ایکسچینج کمپنیوں کو کسٹمرز کو فروخت کرنے والی فارن کرنسیاں کو بائیومیٹرک کیا اس کے بعد بلیک مارکیٹ وجود میں آگئی جس کی وجہ سے اب کسٹمرز بغیر رسید اور بائیومیٹرک کے بلیک مارکیٹ سے فارن ایکسچینج خرید رہے ہیں۔ ایف بی آر اسٹیٹ بینک سے بات کرے اگر اسٹیٹ بینک ہمیں اجازت دے دے گا تو ہم اپنے پوائنٹ آف سیل سسٹم کو ایف بی آر سے منسلک کر دیںگے۔

 

 

By Editor