حکومت پاکستانی کرنسی میں افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دے۔ حاجی محمد ہاشم خان اچکزئی
افغانستان کے ساتھ تجارت کے مسائل جلد حل نہ کئے گئے تو دوسرے ممالک وہاں قبضہ کر سکتے ہیں۔ شکیل منیر
بینکوں نے افغانستان کے ساتھ فارن کرنسی میں لین دین بند کر دیا ہے جس سے تجارت رک گئی ہے۔جمشید اختر شیخ، فہیم خان

اسلام آباد (ویب نیوز)

چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ہاشم خان اچکزئی نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور آئی سی سی آئی کے صدر محمد شکیل منیر کو افغانستان کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں تاجر برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔چیمبر کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ اور نائب صدر محمد فہیم خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حاجی محمد ہاشم خان اچکزئی نے کہا کہ مقامی بینکوں نے افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے اچانک غیر ملکی کرنسی میں لین دین بند کر دیا ہے اور افغانستان کو مختلف مصنوعات برآمد کرنے کے لیے ای فارم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں مصنوعات سے لدی ہوئی بے شمار گاڑیاں چمن پارڈر پر رکی ہوئی ہیں لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری حل نکالے تا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان روزانہ لاکھوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے لہذا انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ چمن بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو چوبیس گھنٹے کیلئے کھلا ر رکھا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینے میں آسانی ہو۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے ادائیگیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ پاکستان افغانستان کی مارکیٹ میں اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ افغانستان کو پہلے ہی اشیائے خوردونوش کے مسائل کا سامنا ہے او ر کمرشل بینکوں کی جانب سے تجارت کیلئے غیر ملکی کرنسی میں لین دین بند کرنے کے تازہ اقدام سے افغانستان کے ساتھ تجارت بہت متاثر ہو گی جبکہ افغان عوام کو بھی اشیائے خوردونوش کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ پاکستانی روپے میں تجارت کرنے کی اجازت دے جس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے میں کافی سہولت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو دیگر علاقائی اور بین الاقوامی ممالک افغانستان کی مارکیٹ پر قبضہ کر سکتے ہیں جو پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک آسان رسائی کیلئے ایک گیٹ وے ہے لیکن بینکوں نے افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے فارن کرنسی میں لین دین بند کر دیا ہے جس سے تاجر برادری بہت پریشان ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستانی تاجر برادری کو افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان باہمی تجارت کے لئے ادائیگیوں کے مسائل کو فوری حل کرنے کیلئے مشترکہ طور پر ایک متفقہ طریقہ کار طے کریں تا کہ دونوں کی باہمی تجارت معمول کے مطابق جاری رہے۔

 

By Editor