سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کا خیر مقدم

لاہور (ویب  نیوز) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کو سراہا ہے جس میں ہندوستان کے ساتھ اگلے 100 سال تک امن کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اتوار کو سارک چیمبر کے صدر افتخار علی ملک نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی، جس کی وزیراعظم عمران خان نے نقاب کشائی کی ہے، بھارت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اس کا مرکزی نقطہ ہے ۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانا ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین مذاکرات میں پیش رفت پر منحصر ہے۔ قومی سلامتی پالیسی میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم آئندہ 100 سال تک بھارت کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی ہممسایہ ممالک کے ساتھ فوری امن کی خواہاں ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پڑوسیوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہندوستان اور پاکستان دونوں کو اپنے تمام بنیادی مسائل کو پرامن اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہیے۔ اگر دنیا کے قدیم ترین تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے تو دونوں ایٹمی پڑوسی اپنے اختلافات کو باہمی طور پر کیوں ختم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ آباد ہے اور بین الاقوامی تجارت میں اس کا حصہ بمشکل پانچ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اتفاق رائے سے کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں پائیدار امن کے علاوہ تمام مقامی وسائل کا رخ دونوں ممالک کی ترقی اور عوام کی بہبود کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دولت کا بڑا حصہ ترقی اور پسماندہ لوگوں کی ترقی و بہبود کی بجائے آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور بھاری دفاعی اخراجات کی نظر ہو جاتا ہے

By Editor