بجلی کی قیمت میں ساڑھے چار روپے فی یونٹ اضافہ واپس لیا جائے۔ محمد شکیل منیر
قیمتوں میں بار بار اضافے نے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ جمشید اختر شیخ، فہیم خان

اسلام آباد ( ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرمحمد شکیل منیر نے کہا کہ نیپرا نے نومبر کے بجلی بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ساڑھے چار روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی ہے جو بلا جواز ہے کیونکہ اس سے کاروباری طبقے سمیت بجلی صارفین پر 35ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جس سے کاروبار کی لاگت بڑھے گی، مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور معیشت مزید مشکلات سے دوچار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کا بوجھ صارفین پر ڈالنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا کل قرضہ پچاس کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جو ہماری قومی سلامتی کیلئے بھی ایک خطرہ ہے اور وزیراعظم بھی خود اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے سب سے بہتر طریقہ کاروبار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا ہے لیکن جس طرح بجلی و گیس اور تیل کی قیمتوں میں بار بار اضا فہ کیا جا رہا ہے اس سے کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا مشکل ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کئی صنعتوں کی پیداوار میں اہم خام مال کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے لہذا نومبر کے بلوں میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے چار روپے فی یونٹ اضافے سے پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کی جاتی ہے جو عوام سمیت کاروباری طبقے کو بہت مہنگی پڑتی ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تیل سے بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کیا جائے۔ اس کے بجائے پانی، ہوا اور سمشی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دی جائے جس سے سستی بجلی پیدا ہو گی، کاروبار کی لاگت نیچے آئے گی، مہنگائی کم ہو گی، سرمایہ کاری اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا اور معیشت مسائل سے نکل کر بہتری کی راہ پر گامزن ہو گی۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ اور نائب صدر محمد فہیم خان نے کہا کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی یقین دہانیاں کراتی ہے تا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے لیکن یوٹیلیٹی کی قیمتوں میں بار بار اضافے سے ایس ایم ایز اور صنعتی شعبے کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے کاروبار کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرے جس سے عوام اور کارباری طبقے پر بوجھ بڑھے بلکہ ایسے اقدامات لئے جائیں جس سے کاروبار کرنے میں آسانی ہو تا کہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے، برآمدات بہتر ہوں اور معیشت مستحکم ہو۔

By Editor