جی ایس پی پلس کے موضوع پر گول میز کانفرس کا انعقاد
جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھا کر برآمدات کو بہتر فروغ دیا جائے۔ شکیل منیر

اسلام آباد (ویب نیوز  )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے اس بات پر زور دیا ہے نجی شعبہ جی ایس پی پلس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا کر برآمدات میں اضافے کیلئے کوششیں تیز کرے جس سے معیشت جلد بحال ہو گی اور صنعتی شعبہ بہتر ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس کی موجودہ سہولت 2022 کے آخر تک برقرار ہے جو بہت سی پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت میں توسیع کیلئے حکومت اپنی کوششیں مزید تیز کرے کیونکہ برآمدات میں اضافے، معیشت کی بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے اس سہولت میں توسیع پاکستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”خواتین کارکنوں کی بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت اور جی ایس پی پلس اسٹیٹس“ کے موضوع پر ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقادآئی سی سی آئی نے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکا ؤ نٹیبلٹی اور وومن ورکرز الائنس کے اشتراک سے کیا۔ کانفرنس میں مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور نے بھی شرکت کی۔
محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی کے تحت برآمدات میں سالانہ ایک ارب سے ڈیڑھ ارب یورو اضافہ کر رہا ہے جو کوئی متاثر کن کارکردگی نہیں ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا برآمدی شعبہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کی کرشش کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت برآمد کنندگان کے اہم مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کرے اور انہیں جی ایس پی پلس کے تحت برآمدات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے تاکہ یورپی یونین کی مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے مطابق یورپی کمیشن جی ایس پی پلس میں توسیع کیلئے چھ نئے کنونشنز کو منسلک کر رہا ہے، جن میں معذور افراد کے لیے بہتر رسائی، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق کنونشنز بھی شامل ہیں۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس سہولت سے بہتر فائدہ اٹھانے کے لیے تمام کنونشنز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گول میز کانفرنس شرکاء میں جی ایس پی پلس کے بارے میں مزید بہتر آگاہی پیدا کرے گی تا کہ اس سہولت سے پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد کیسے حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس شرکاء کو اس بارے میں بھی بہتر آگاہ کرے گی کہ کس طرح خواتین ورکرز اور آجروں کے درمیان بہتر تعاون قائم کر کے جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کی مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
رخسانہ شمع، ڈپٹی ٹیم لیڈ،ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی نے جی ایس پی پلس کے تعارف اور مقاصد پر روشنی ڈالی کہ کس طرح یہ سہولت پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے خواتین کارکنوں کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور افرادی قوت میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے اجاگر کردہ مسائل کے فوری ازالے کا مطالبہ کیا۔ ویمن ورکرز الائنس کی نمائندہ نے خواتین کارکنوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے لیے روڈ میپ شرکاء سے شیئر کیا۔ توصیف زمان سابق سینئر نائب صدر آئی سی سی آئی نے آجروں کے مسائل پر روشنی ڈالی اور ملک کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے خواتین ورکرز کی شرکت کو بڑھانے کے لیے مختلف سفارشات پیش کیں۔ اس موقع پر خواتین کارکنوں اور آجروں کے مشترکہ بیان کے مسودے کو بھی حتمی شکل دی گئی۔

By Editor