برآمدات کے بہتر فروغ کیلئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ شکیل منیر
آئی ٹی شعبے پر توجہ دے کر برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جمشید اختر شیخ، فہیم خان
اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر  ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ برآمدات کے بہتر فروغ کیلئے نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس وقت پاکستان برآمدت کیلئے چند مارکیٹوں پر توجہ دے رہا ہے جس سے برآمدات اصل صلاحیت کے مطابق فروغ نہیں پا رہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابل برآمدات مصنوعات اور مارکیٹوں میں تنوع پیدا کرنے میں نجی شعبے سے تعاون کرے جس سے برآمدات میں بہتر اضافہ ہو گا اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برآمدات کے لیے زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات پر انحصار کرتا ہے کیونکہ یہ شعبہ ملک کی کل برآمدات میں 60 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے قابل برآمدات مصنوعات اور مارکیٹوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے جس سے پاکستان کے دیرینہ معاشی مسائل حل ہوں گے اور ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، حلال فوڈ، ماربل و گرینائٹ، جیمز اینڈ جیولری سمیت بہت سے دیگر شعبے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان شعبوں کی بہتر سہولت کے لیے مزید ٹھوس اقدامات اٹھائے جس سے برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے مطالبہ کیا کہ حکومت برآمدات کی بہتری کیلئے کو برآمدات کی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں پر زیادہ توجہ دے جن میں روس، وسطی ایشیائی خطہ، افریقہ، ترکی، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نمایاں ہیں کیونکہ برآمدات میں بہتر اضافے کیلئے نئی مارکیٹوں کی تلاش بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے کے لیے صنعتی شعبے کو اپ گریڈ کیا جائے جس سے ہماری برآمدات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم حکومت نے منی بجٹ کے ذریعے کئی صنعتوں سے ٹیکس چھوٹ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے صنعتوں کی اپ گریڈیشن کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت منی بجٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کی سالانہ برآمدات کو 2.5 ارب ڈالر کی موجودہ سطح سے 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی بہتر صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام ممکنہ مارکیٹوں میں اپنے رابطہ دفاتر قائم کرنے کیلئے ڈومیسٹک سافٹ ویئر ہاؤسز کے ساتھ بھرپور تعاون کرے جس سے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی۔ انہوں نے مزی کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور آلات متعارف کرانے کیلئے بھی بہتر تعاون کرے جس سے ہماری فی ایکڑ پیداوار بہتر ہو گی اور اس شعبے کی برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔

By Editor