کووڈ 19 کی پانچویں لہر تناظر میں ملکی معیشت کسی سیاسی انتشار یا عدم استحکام کی متحمل نہیں ہو سکتی، افتخار علی ملک

لاہور (ویب نیوز ) کووڈ 19 کی پانچویں لہر تناظر میں وقت کے اس نازک موڑ پر ملکی معیشت کسی سیاسی انتشار یا عدم استحکام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ سارک چیمبر آف

کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے اتوار کو یہاں ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو درپیش متعدد چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے  ہمیں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور احتجاج، تشدد یا توڑ پھوڑ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت بدل گیا ہے اور اب بااثر ممالک اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی جنگ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ یہ ممالک اپنے ناپاک عزائم کے حصول کی خاطر غریب ممالک کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے معاشی تباہی کے ہتھیار کو کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ ایسی کسی معاشی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے ہمیں کاروباری لاگت کو کم کرنا ہوگا تاکہ ہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارت میں سہولت کاری صنعتوں کے فروغ کی بنیاد ہے اور یہاں تمام رکاوٹوں کو دور کرکے تجارتی سہولت کاری کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں زبردست پوٹینشل اور بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ ہمیں صرف حکومتی پالیسیوں میں مستقل مزاجی اور آگے بڑھنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے سمیت تمام شعبوں کو اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے معیشت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ حکومت کو اصلاحات کرکے خام مال اور تیار اشیاء کی سمگلنگ پر قابو پانا چاہیے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات معیار اور قیمت کے لحاظ سے دنیا میں بہترین ہیں اس لئے حکومت نئی غیر ملکی منڈیوں کی تلاش کرنے کے لیے مارکیٹ ریسرچ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی مشنز کو اس بات کا پابند ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مصنوعات غیر ملکی خریداروں میں متعارف کرائیں اور تجارت سے متعلق معلومات کی ترسیل کو یقینی بنائیں تاکہ پاکستانی تاجر زیادہ سے زیادہ تجارتی مواقع سے استفادہ کر سکیں۔

By Editor