برآمدی رقم کی واپسی کے لیے شپمنٹ کی تاریخ سے 120 دن کے بجائے 180 دن کا ٹائم فریم ورک کیا جائے، میاں کاشف اشفاق

لاہور (ویب  نیوز)یوکے پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے  کہا ہے کہ برآمدی رقم کی واپسی کے لیے شپمنٹ کی تاریخ سے 120 دن کے بجائے 180 دن کا ٹائم فریم ورک کیا جائے۔ اتوار کو ناصر حسین کی قیادت میں برآمد کنندگان کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ زرمبادلہ کے حالیہ ترمیم شدہ ضوابط سے برآمدی شعبہ متاثر ہو گا کیونکہ برآمد کنندگان اپنے غیر ملکی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کرتے ہیں جن میں شرائط 180 دن کے واپسی کے ماڈل کے تحت طے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر پالیسیوں میں راتوں رات تبدیلیاں میکرو اکنامک سطح پر بے نتیجہ ہونے کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کرتی ہیں۔ میاں کاشف نے کہا کہ کورونا وبا ابھی ختم نہیں ہوئی اور پوری دنیا پر کووِڈ 19 کی پانچویں لہر کے پیش نظر ایک اور معاشی بحران منڈلا رہا ہے جس سے مغربی مارکیٹوں کی بندش کا خدشہ ہے اور یہ ادائیگیوں کے شیڈول کو بری طرح متاثر کرے گا جو انسانی کنٹرول سے باہر

ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں قومی مالیاتی پالیسیوں کو قابل عمل بنانے کے لیے ان کی تشکیل یا اعلان سے قبل  سٹیک ہولڈرز، خصوصاً کاروباری برادری کی منتخب قیادت کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ وہ ٹائم فریم ورک کو 180 دن سے کم کرکے 120 دن کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان برآمدی شعبے کے بھر پور حامی اور برآمدات کے فروغ کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرنے کے خواہاں ہیں لیکن اس طرح جلد بازی میں کیا گیا سخت فیصلہ پی ٹی آئی حکومت کے وژن کے خلاف ماضی میں حاصل کیے گئے فوائد کو بھی پلٹ دے گا۔ میاں کاشف نے کہا کہ وزیر اعظم متعدد مواقع پر اعلان کر چکے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے تمام پالیسیوں اور فیصلوں میں ایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

By Editor