آسلام آباد (ویب نیوز )

ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ، کاروبار ی آسانی کے فروغ  اور تعمیلی  لاگت میں تخفیف کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کی مہم کے تسلسل میں،ایف بی آر نے نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن کی تیاری  کر کے   ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ۔ یہ ہر لحاظ سے آٹومیشن، ڈیٹا انٹیگریشن اور ٹیکسوں کی ہم آہنگی کی جانب  ایک اہم قدم ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن صوبائی حکومتوں اور ان کی متعلقہ ریونیو اتھارٹیز کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد تیار کیا گیا اور اس میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تاثرات کو شامل کیا گیا۔ یہ ڈیجیٹل سہولت ٹیکس جمع کرانے کے طریقہ کار کو آسان بنائے گی جس سے  تعمیلی اخراجات  کی بچت ہو گی ۔ یہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اداروں کی اہم سفارشات میں سے ایک ہے۔

نیشنل سیلز ٹیکس ریٹرن اعداد و شمار اور حساب کتاب کی غلطیوں جیسے عام مسئلوں کو حل کر کے  ڈیٹا کے اندراج کو  کم سے کم کر دے گا ۔ یہ نظام اِن پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس اتھارٹیز میں ٹیکس کی ادائیگیوں کی خودکار طریقے سے  تقسیم کرے گا، اس طرح  جانچ پڑتال اور ادائیگی کی منتقلی کی ضرورت کا خاتمہ ہو گا ۔ اس نظام کے ذریعے تمام ریونیو اتھارٹیز کے افسران ٹیکس دہندگان کے معاملات کے حوالےسے  بہتر طور پر باخبر فیصلے کر سکیں گے۔ اس سے  ٹیکس اکٹھا کرنے والے   بغیر آڈٹ کے ریونیو  حصول اورٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے کے قابل ہوں گے۔ اس نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس سے  وفاقی حکومت اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے طریقہ کار،  قوانین میں ہم آہنگی   اور تشریح  کو فروغ ملے گا اور قومی یکجہتی  کا عمل یقینی بنے گا ۔

پاکستان میں اشیاء  پر سیلز ٹیکس ایف بی آر وصول کرتا ہے جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس چاروں صوبوں میں سے ہر ایک  اپنے علاقے میں وصول کرتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خدمات پر سیلز ٹیکس بھی ایف بی آر وصول کرتا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی اپنی ٹیکس اتھارٹیز ہیں۔

اس وجہ سے ٹیکس دہندگان کو ہر ماہ الگ الگ سیلز ٹیکس گوشوارے  مختلف   اتھارٹیز میں جمع کرانے  پڑتے تھے  جہاں وہ کاروبار کرتے تھے،لہذا انہیں مشکلات کا سامنا تھا اور تعمیلی  اخراجات  بھی زیادہ تھے۔ مثلاً پورے پاکستان میں کام کرنے والے ٹیلی کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والے  کو ہر ماہ ایف بی آر، سندھ ریونیو بورڈ، پنجاب ریونیو اتھارٹی، خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی، بلوچستان ریونیو اتھارٹی، آزاد کشمیر کونسل بورڈ آف ریونیو اور گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی کو گوشوارے جمع کروانے پڑتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی کٹھن  اور اکتا دینے والا عمل تھا جس کی وجہ سے اکثر غلطیاں اور تنازعات رونما ہوتے تھے۔

مذکورہ بالا وجوہات  کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سنگ میل  اقدام نہ صرف ریونیو پوٹینشل  کی بڑھوتری میں معاون ہو گا  بلکہ جعلی/فلائنگ انوائسنگ اور سیلز کو مخفی رکھنے کے کلچر کا خاتمہ کرتے ہوئے پورے پاکستان میں ٹیکس تعمیل کو  یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گ

By Editor