مارچ میں 82 لاکھ یوریا کھاد کی بوری موجود ہوگی،یوریا کی ملک میں مصنوعی قلت پر قابو پایا جائے گا،پریس کانفرنس

 یوریا پلانٹ ہمیشہ نومبر میں بند ہو جاتے تھے اس مرتبہ جاری رکھے ہیں،  وفاقی وزیر حماد اظہر

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا ہے کہ کسانوں کو 400 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے ، یوریا کی سمگلنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، 10 جنوری سے یوریا کی 4 لاکھ 40 ہزار بوریوں کی روزانہ پیداوار ہوگی۔ اسلام آباد میں وفاقی وز یرخسرو بختیار نے وفاقی وزیر حماد اظہرکے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو 400 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے،یوریا کی سمگلنگ پر نظر رکھی ہوئی ہے، کھاد کا ٹرک پکڑا گیا ہے،  سمگلرز کو سامنے لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اس وقت یوریا کھاد 1800 میں فروخت ہورہی ہے،ضرورت پڑی تو چین سے مزید یوریا منگوائی جائے گی،میں کسانوں کو کہتا ہوں فکر نہ کریں،فروری میں ضرورت سے زیادہ کھاد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جنوری میں ضرورت کے تحت کسان کھاد لے سکیں گے، مارچ میں 82 لاکھ یوریا کھاد کی بوری موجود ہوگی،یوریا کی ملک میں مصنوعی قلت پر قابو پایا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ یوریا پلانٹ ہمیشہ نومبر میں بند ہو جاتے تھے اس مرتبہ جاری رکھے ہیں، یوریا کھاد پلانٹ کو بلاتعطل گیس کی فراہمی جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2021  میں یوریا کھاد کی تاریخی پیدوار ہوئی،ملک میں 25 ہزار ٹن یومیہ یوریا بن رہا ہے،سستی کھاد کے ذرائع ہر سال کسانوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے۔ نمائندہ کھاد مینوفیکچررز نے بتایا کہ ہم نے وفاقی وزیرصنعت و پیدوار کیساتھ کھاد کی پیدوارکا ڈیٹا شیئر کیا ہے، اس وقت ملک میں یوریا کھاد کی قلت نہیں،کسان افراتفری میں خریداری نہ کریں،ہم نے 400 ارب کا منافع کسانوں کو منتقل کیا ہے۔کھاد مینوفیکچررزکے نمائندے نے بتایا کہ اگر کوئی ڈیلر زائد منافع وصول کرے گا تو لائسنس کینسل کریں گے،وزیراعظم نے ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ کھاد کے پلانٹ پورا سال چلیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کھاد کی خریداری ہفتہ وار بنیادوں پر کریں، ماہانہ اسٹاک نہ لیں۔

By Editor