درآمدات بڑھنے سے تجارتی خسارہ24ارب79کروڑ ڈالر ہوناملکی معیشت کیلئے خطرہ ہے،نصراللہ مغل

لاہور (ویب  نیوز)

صنعتکار ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز  نصراللہ مغل سابق چیئرمین ٹائون شپ انڈسٹریز نے رواں مالی سال کے ابتدائی 6ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ دوگنا ہوکر 24ارب79کروڑ ڈالر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی خسارہ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ سالانہ بنیاد پر درآمدات میں63فیصد اضافہ ہے۔جبکہ رواں مالی سال کے6ماہ میں برآمدات میں 25فیصد اضافہ ہوا ۔ برآمدات میں اضافہ کے باوجود حکومت کو تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جاری کھاتوں کے خسارے کے باعث  ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے گراوٹ کا شکار ہے اس لیے حکومت پرتعیش مصنوعات کی برآمدات کو کنٹرول کرے ۔   ان خیالات کا اظہار انہوںنے ٹائون شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔نصر اللہ مغل نے کہا کہ موجودہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف موجودہ حالات میں غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے حکومت کوبرآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درآمدات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے پرتعیش  اور غیر ضروری مصنوعات کی درآمدات پر بھی قابو پانا ہوگا ۔ برآمدات کی بحالی اور توسیع کے سلسلہ فوری اقدامات کی ضرورت ہے اس ضمن میں  پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش اور بیرون ملک سفارتخانوں کو فعال کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستانی مصنوعا ت کی کھپت اور برآمدات میں اضافہ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔ انہوںنے کہا کہ تجارتی خسارہ میں کمی اور حکومت کی طرف سے پانچ سالوں میں برآمدات کا ہدف57ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک کھپت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

By Editor