حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ شکیل منیر
عوام کی قوت خرید کم ہونے سے کاروبارمندی کا شکار ہو رہا ہے۔ جمشید اختر شیخ، فہیم خان

اسلام آباد ( ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ دسمبر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.3فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 21 ماہ میں مہنگائی کی سب سے بلند ترین سطح ہے لہذاانہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات کئے جائیں کیونکہ اگر مہنگائی اسی طرح بڑھتی رہی تو عوام کی قوت خرید مزید کم ہوتی جائے گی جس کے کاروباری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے منی بجٹ میں 343ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لینے اور سینکڑوں اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویز دی ہے اور اگر منی بجٹ پارلیمنٹ سے پاس ہو جاتا ہے تو ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی جس سے نہ صرف عوام کاجینا مزید مشکل ہوجائے گا بلکہ تجارتی و صنعتی سرگرمیاں بھی بہت متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر میں کھانے پینے کی کئی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے عوام کیلئے روزمرہ کی ضروریات پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر کے دورے کے موقع پر ڈوگر پبلیشر کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی خان اور انورسہیل خان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
محمد شکیل منیر نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ کے تحت مائننگ سمیت کئی شعبوں کی صنعتی مشینری کی درآمد پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے صنعتی شعبے کو اپ گریڈ کرنا اور ترقی دینا مزید مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کا سب سے بہت طریقہ صنعتی ترقی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنا ہے تا کہ صنعتی شعبہ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کر کے پاکستان کی برآمدات کو بڑھا سکے جس سے ملک قرضوں سے چھٹکارہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن صنعتی مشینری کی امپورٹ پر ٹیکس بڑھانے سے اس شعبے کی ترقی کا عمل متاثر ہو گا جس سے معیشت کو مسائل سے نکالنا مزید مشکل ہو جائے گا لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرے۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ نے کہا کہ تیل کی قیمتوں، سٹیٹ بینک کے مارک اپ ریٹ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ، روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور ٹیکسوں کے زیادہ ریٹس وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے مہنگائی میں بہت اضافہ کیا ہے لہذا حکومت ان عوامل پر نظرثانی کر کے مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے فریٹ چارجز میں بھی اضافہ کر دیا ہے جس سے بین الاقوامی تجارت مہنگی ہو گئی ہے جبکہ اس سے ہماری برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پرائس کنٹرول کا ایک جامع طریقہ کار وضع کرے تا کہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد فہیم خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صارفین کی قوت خرید گرتی جا رہی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے کا اندیشہ ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ کے پاس ہونے سے مہنگائی میں مزیداضافہ متوقع ہے جس کے کاروبار پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں مناسب کمی کرنے پر غور کرے کیونکہ سخت مانیٹری پالیسی اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دے اور کاروباری طبقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر توجہ دے جس سے معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔

By Editor