کراچی (ویب ڈیسک)

کراچی کے تاجروں نے سال2021کو تجارتی اعتبار سے ملکی تاریخ کا مشکل ترین سال قرار دیا ہے۔ تاجروں کے مطابق مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں کے سبب2021 عوام کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا، سالِ گذشتہ تاجروں کیلئے ملکی تاریخ کا مشکل ترین سال ثابت ہوا، 2021 کا سورج ڈوبتے ڈوبتے بھی عوام کو منی بجٹ، بجلی اور تیل کی مہنگائی کا تحفہ دے گیا، کمزور حکومتی گرفت کے نتیجے میں عوام مکمل طور پر ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر رہے، زندگی کی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑگئے۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے2021کو تاجروں کیلئے مصائب و مشکلات کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر اشیاء کی لاگت بڑھنے سے مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام برقرار نہ رکھا جاسکا، انھوں نے کہا کہ بیروزگاری، مہنگائی، مندی اور کساد بازاری نے عوام اور تاجروں کو بدحواس کردیا، انھوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی عزائم اور ملک پر آئی ایم ایف کے بڑھتے ہوئے تسلط کے پیشِ نظر 2022سے بھی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی، سالِ گذشتہ کاروباری مسائل و مشکلات، اعصاب شکن بیروزگا ری، ہوشربا مہنگائی اور مایوسیوں کا سال ثابت ہوا، ڈالر کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر، روپیہ چاروں شانے چت ہوگیا، بدعنوانی کے خلاف حکومتی اقدامات بے سود ملک پر بدعنوانوں کا راج رہا، اسٹریٹ کرائم، لاقانونیت اور جرائم میں کئی گنا اضافہ ہوا، گذشتہ کئی سال سے مارکیٹوں پر چھائی ہوئی پانچ سالہ مندی اور کساد بازاری کی نحوست کا خاتمہ نہ ہوسکا، ٹرانسپورٹ کے کرائے ناقابلِ برداشت، سفر، نقل و حمل اور باربرداری مہنگی اور دشوار ہوگئی، حکومت کی جانب سے معیشت میں بہتری کی کوئی بھی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوسکی،انھوں نے کہا کہ معاشی حب کراچی ناقابلِ برداشت مہنگائی، ہولناک بیروزگاری اور اذیتناک بلدیاتی عذاب سے دوچار رہا، بجلی، پیٹرول اور گیس کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا، بیشتر دکاندار کارخانے داروں اور کارخانے دار خام مال کے بیوپاریوں کے مقروض ہوگئے، رواں سال بھی تاجر اور عوام تبدیلی کے منتظر رہے لیکن حالات تبدیل نہ ہوسکے، کراچی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال غیرتسلی بخش رہی، حکومتِ سندھ کی بدترین کارکردگی کا تسلسل گذشتہ سال بھی برقرار رہا، شہر کی بیشتر مارکیٹیں تجاوزات، ٹریفک، پارکنگ، آتشزدگی اور دیگر ان گنت مسائل کا شکار رہیں، انھوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کیلئے متاثرکُن اور نتیجہ خیز اقدامات نہ کیئے جاسکے، پولیس کا نظام شہریوں کیلئے اذیتناک کارکردگی غیرمتاثر کُن رہی، چور، ڈاکو لٹیرے شہریوں کیخلاف بے خوف و خطر دندناتے رہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہ ہوسکا سرمایہ کاری70فیصد تک کم ہوگئی، نئے تجارتی یونٹس کا قیام10فیصد سے بھی کم رہا، ملازمتوں کے مواقع ناپید رہے، ہر تہوار پر تاجروں کا سیل سیزن غیر تسلی بخش اور خریدار قوتِ خرید سے محروم رہے، انھوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ2021میں بھی قابلِ قبول، آسان اور تاجر دوست انکم ٹیکس اسکیم متعارف نہ کروائی جاسکی جس کے نتیجے میں ایف بی آراور تاجروں کے مابین تناؤ اور کشیدگی کی صورتحال کا خاتمہ نہ ہوسکا۔

By Editor