کراچی  (ویب ڈیسک)

ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہاہے کہ امپورٹڈ ماہر ین معاشیات ،پاکستان کو قرض کی دلدل میں پھنسا رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف اوردیگر غیر ملکی مالیاتی اداروں سے لئے جانے والے قرضے اور ان کی ادائیگیاں ہیں۔ وسائل سے مالا مال ملک بدنیتی کی وجہ سے تباہ حالی کا شکا رہے ۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل، ملک میں ہی دستیاب ہے ، ہمیں خود انحصاری کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ پاکستان اپنی آزاد معاشی پالیسی مرتب کرے جس میں اپنے مفادات کو پیش نظررکھ کر فیصلے کئے جائیں۔حکو مت کو منی بجٹ میں بھاری ٹیکسز لگانے اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے ماتحت دینے سے روکا جائے ۔ موجودہ منی بجٹ ظالمانہ اورناانصافیوں پر مبنی ہے۔موجودہ حکومت عام لوگوں پربھاری بھاری ٹیکس لگا کر ان کی کھال کھینچ رہی ہے۔ تمام تر ٹیکسز غریب عوام پرلگائے جا رہے ہیںجبکہ دولتمندوں اور سرمایہ داروں کو مکمل چھوٹ دی ہوئی ہے۔منی بجٹ میں عام استعمال کی اشیاء پرٹیکس کی شرح کو بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے جس سے افراط زر بڑھے گی۔ امپورٹڈ اشیاء پرعائدٹیکس بھی بڑھادیا گیا ہے، ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ان کی امپورٹ کو بند کردینا چاہئیے کیونکہ یہ زیادہ تر دولتمند اور سرمایہ دار لوگ استعمال کرتے ہیں اور انہیں امپورٹ کرنے میں فارن ا یکسچئنج خرچ ہوتا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کے دبائو میں اخراجات  (expeditures )کو ختم کر دیا ہے ، جس کا مطلب غریب عوام نا صرف صحت اور تعلیم کی سہولت سے محروم کر دیئے جائیں گے بلکہ اس سے مہنگائی میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔ پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا کہ ملک کو معاشی مسائل سے نجات دلانے کے لئے محب وطن ماہرین معاشیات اور محب وطن لیڈر شپ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہئیے۔ وہ ایک وفد کے ہمراہ ممتاز ماہر معاشیات ،آئی او بی ایم کی ڈین، انڈیپیندینٹ اکنامسٹس اینڈ پالیسی پریکٹیشنرز کی صدراور تکمیل پاکستان تھنک ٹینک کی چیئرپرسن ڈاکٹر شاہدہ وزارت سے ملاقا ت میں گفتگو کر رہے تھے۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے مزید کہا کہ حکومت غریبوں کی کھال کھینچ کر ٹیکسز جمع کرنا بند کرے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے ۔ پاکستان کے سارے وسائل کو بروئے کار لاکر معاشی حالات میں سدھار لایا جا سکتا ہے۔ لیکن حکمران آئی ایم ایف کی خوشنودی حا صل کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو ہرگز ملک و قوم کے مفاد میں ہرگز نہیں ہیں۔ منی بجٹ نا صرف مہنگائی میں اضافہ کرے گا بلکہ معاشی شرح نمو پربھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے ملک میں پیداواری عمل بھی سست ہوجائے گا۔ پاکستانی عوام پہلے ہی بری طرح مہنگائی کا شکار ہیں اور ان کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں، 17فیصد جی ایس ٹی لگنے سے دیگر اشیاء بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ امریکا اور دولتمند ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے لئے ہم اپنے وسائل اور دولت کو بے دردی سے ان پر نچھاور کررہے ہیں۔ کہنے کوہم آزاد ہیں لیکن ابھی بھی ذہنی طور پر غلام ہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل پاس کرانے کا مقصددراصل اسے آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دینا ہے ، اسے پاس ہونے سے روکا جائے بصورت دیگر ہمارے تمام ادارے آئی ایم ایف اور امریکا کے کنٹرول میں چلے جائیں گے ۔

By Editor