پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کلینڈر سال2021ء کا اختتام مثبت ہوا
منی بجٹ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں نئے کلینڈر سال2022ء کے پہلے ہفتے کے دوران کاروباری اتار چڑھاؤ کا خدشہ
گذشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 400پوائنٹس بڑھ گیا
انڈیکس44100پوائنٹس سے بڑھ کر44500پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا،کاروباری تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 125ارب روپے سے زائد کا اضافہ

کراچی (ویب نیوز )

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کلینڈر سال2021ء کا اختتام مثبت ہواتاہم منی بجٹ کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں نئے کلینڈر سال2022ء کے پہلے ہفتے کے دوران کاروباری اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے، گذشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای100انڈیکس 400پوائنٹس بڑھ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس44100پوائنٹس سے بڑھ کر44500پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا،کاروباری تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 125ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 76کھرب روپے سے تجاوز کر گیا اور49.91فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔اسٹاک ماہرین کے مطابق کلینڈر سال2021ء کے آخری کاروباری ہفتے کے پہلے دن سرمایہ کاروں کو منی بجٹ پر خدشات اور تحفظات،نئی ریفائنری پالیسی کا انتظار،ہر شعبے میں کلوزنگ،اور بیرون ملک اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے دنیا میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے منڈ لاتے بادلوں کی وجہ سے1دن کی مندی سے انڈیکس 204.95پوائنٹس لوز کر گیا تھا تاہم مقامی ریفائنری کے توسیعی منصوبے میں 1.20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری،چند بڑے حجم کے حصص کی خریداری سرگرمیاں بڑھنے،نئی ریفائنری پالیسی کے جلد اعلان ہونے کی توقعات،سیمنٹ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ریفائنری سیکٹر میں سرمایہ کاری،منی بجٹ کے منظور ہونے کی توقعات،شنگھائی الیکٹرک کی کے الیکٹرک کی 6فیصد اسٹیک حاصل کرنے میں دلچسپی کی خبروں اور کوئلے کی عالمی قیمت میں کمی جیسے عوامل مارکیٹ کی تیزی کاسبب بنے جس کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کلینڈر سال2021ء کے آخری کاروباری ہفتے کے دوران 4دن تیزی رہی اور اس دوران انڈیکس 682.63پوائنٹس بڑھ گیا۔ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 477.68پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 44118.39پوائنٹس سے بڑھ کر44596.07پوائنٹس ہو گیا اسی طرح148.22پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30انڈیکس 17353.47پوائنٹس سے بڑھ کر17501.69پوائنٹس پر جا پہنچا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 30203.93پوائنٹس سے بڑھ کر30726.52پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 1کھرب25ارب14کروڑ56لاکھ51ہزار682روپے کا اضافہ ریکارڈکیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 75کھرب59ارب49کروڑ12لاکھ55ہزار51روپے سے بڑھ کر76کھرب84ارب63کروڑ69لاکھ6ہزار733روپے ہو گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 44649.03پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کی لہر آنے سے انڈیکس 43846.01پوائنٹس کی کم سطح پر بھی ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیاد ہ سے زیادہ 10ارب روپے مالیت کے 31کروڑ76لاکھ46ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم از کم4ارب روپے مالیت کے 11کروڑ46لاکھ69ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر1793کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے895کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،784میں کمی اور114کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے سینر جیکو پاک،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ،یونٹی فوڈز لمیٹڈ،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ،ہم نیٹ ورک،ورلڈ کال ٹیلی کام،غنی گلوبل،نیکسٹ کیپیٹل،جی تھیر ی ٹیکنالوجیز،کے الیکٹرک لمیٹڈ،ٹی پی ایل پراپرٹیز،ٹریٹ کارپوریشن،ڈی ایس انڈسٹریز لمیٹڈ،پاک ریفائنری،حیسکول پیٹرول،ایز گارڈ نائن،فرسٹ نیشنل ایکوٹیز،فوجی فوڈز لمیٹڈ،سلک بینک لمیٹڈ میپل لیف اور عائشہ اسٹیل مل سر فہرست ہے ۔

By Editor