آئی سی سی آئی کا قومی اسمبلی میں منی بجٹ کی پیشی پر شدید تحفظات کا اظہار
منی بجٹ کاروبار کو متاثر کرے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ کرے گا۔ شکیل منیر
منی بجٹ سے سملنگ فروغ پائے گی اور مقامی کاروبار متاثر ہو گا۔ جمشید اختر، فہیم خان

اسلام آباد (ویب نیوز  )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کی منظوری سے بہت سے کاروباروں کی ترقی متاثر ہوگی اور ملک بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر اٹھے گی جس سے عام آدمی پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا اور معاشی سرگرمیاں مزید مندی کا شکار ہوں گی لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاروبار اور عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئے اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جائے اور ٹیکس ریٹس میں مناسب کمی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر نشوونما ملے اور معیشت بحال ہو۔لیکن ان مطالبات کے برعکس حکومت نے صنعتی مشینری، فارما سیکٹر اور درآمدی اشیائے خوردونوش سمیت دیگر چیزوں پر اربوں روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لینے کے لیے منی بجٹ متعارف کرایا ہے جس سے پیداواری سرگرمیوں کی لاگت بڑھے گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں وفاقی دارالحکومت کی حدود میں سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے جس سے اس خطے کی تاجر برادری مزید مشکلات کا شکار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ کے تحت مایئنگ شعپے پر بھی سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17فیصد کر دیا ہے جس سے نہ صرف ماربل مصنوعات مزید مہنگی ہو ں گی بلکہ ماربل و گرینائٹ کی برآمدات بھی متاثر ہوں گی اور معیشت کو نقصان ہو گا۔


آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ضمنی فنانس بل 2021 میں آٹا، خوردنی تیل، ادویات، پولٹری مصنوعات، بچوں کی خوراک، دیگر اشیائے خوردونوش، موبائل فون، کمپیوٹرز، سلائی مشین، ماچس، نمک اور لال مرچ سمیت بہت سی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ مہنگائی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے ٹیکس چھوٹ واپس لینے اور خام مال پر ڈیوٹی عائد کرنے سے صنعت و تجارت کے شعبوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے لہذا انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں منی بجٹ کو واپس لینے پر غور کرے۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ منی بجٹ حکومت کے لیے اضافی ٹیکس ریونیو پیدا کرنے کے بجائے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سمگلنگ کو فروغ دے گا جس سے مقامی صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ قوت خرید میں مزید کمی سے لوگ سمگل شدہ اور سستی اشیاء بشمول موبائل فون خریدنے کو ترجیح دیں گے اور یہ صورتحال پاکستان کو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایک پسماندہ ملک بنائے رکھے گی جو کہ پاکستان کو ایک ڈیجیٹل معیشت بنانے کی حکومتی کوششوں کے بالکل برعکس ہوگا۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت معیشت کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کرے اور ملک کو مزید مسائل سے بچانے کے لیے منی بجٹ کو واپس لینے پر غور کرے۔

By Editor