لاہور (ویب ڈیسک)

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط پر قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے منی بجٹ کے متعدد نکات وضاحت طلب ہیں اس لئے حکومت حتمی منظوری سے قبل ترمیمی مالیاتی بل پرملک بھر کے چیمبرز ،ایسوسی ایشنز اور تاجر تنظیموں کواعتماد میں لے، بعض معاشی ماہرین کے مطابق حکومت بظاہر350ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لینے کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ بعض ایسے شعبوں سے بھی ٹیکس چھوٹ واپس لی گئی ہے جس کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ ان خیالات کا اظہارانہوںنے اپنے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں کیا ۔ اس موقع پر محبوب سرکی، طارق فیروز ،شہزاد بھٹی،ظہیر الدین بابر سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم کے لوگ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے، اگر ضمنی مالیاتی بل کے حوالے سے چیمبرز، ایسوسی ایشنز او ر تاجر تنظیموں کے سرکردہ رہنمائوں کو پیشگی اعتماد میں لے لیا جاتا تو منی بجٹ کے حوالے سے تذبذب اور اضطراب کی صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ مطالبہ ہے کہ حکومت حتمی منظوری سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور اگر اس دوران کوئی تجاویز سامنے آئیں تو انہیں بل کا حصہ بنا کر پھر اس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے

By Editor