اسلام آباد (ویب ڈیسک)

چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمدنے کہا ہے کہ حکومت کو جی ایس ٹی پر چھوٹ واپس لینے کی سیاسی قیمت چکانا پڑے گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ ریونیو بڑھائیں اور اصلاحات کریں، ماضی میں جب بھی آئی ایم ایف کا مطالبہ آتا ہم نئے ٹیکس لگا دیتے ہیں مگر پالیسی سطح کی تبدیلیوں پر کسی نے توجہ نہ دی کیونکہ یہ غیر مقبول فیصلے تھے، آئی ایم ایف کو ٹیکس ریونیو کے اعدادوشمار سے مطلب ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ آئی ایم ایف زیادہ پالیسی سطح کی اصلاحات پر زور دیتا ہے، آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ تمام اشیا پر 17 فیصد جی ایس ٹی لگائیں، اگر کسی کو سہولت دینا ہے تو سبسڈی کے ذریعے دی جائے، آئی ایم ایف کا مطالبہ ٹیکس تفریق کو ختم کرنے کا تھا، ہمارا فوکس بھی ٹیکس تفریق و تضاد کو دور کرنے پر ہے، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس کو اپنا ریوینیو اکٹھا کرنے تک رکھیں۔چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ منی بجٹ کے ذریعے جو اصلاحات متعارف کروائی ہیں وہ تاریخی ہیں، 200 سے زائد مالیت کے درآمدی موبائل فون پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو کرنے کی تجویز ہے، پاکستان میں ٹیکسوں کی جتنی مراعات ہیں اس حساب سے پاکستان کو دینا سب سے بڑا صنعتی ملک ہونا چاہیے مگر مراعات کے باوجود پاکستان دنیا کا بڑا صنعتی ملک نہیں ہے، یہی آئی ایم ایف کہتا ہے کہ جب ایسا نہیں ہے تو پھر یہ تفریق ختم کی جائے، جی ایس ٹی کی چھوٹ واپس لینا حکومت کا غیر مقبول فیصلہ ہے جس کی سیاسی قیمت چکانا پڑے گی۔چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ فیصلے ملکی معیشت کیلئے اور ڈاکومنٹیشن کیلئے ضروری تھے، حکومت کے پاس ریونیو زیادہ آئے گا تو ٹارگیٹڈ سبسڈی زیادہ دی جاسکے گی، آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل جائیں تو پھر ایک ہی بجٹ پیش ہوا کرے گا۔

By Editor