40 سے 50 کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد باہمی تجارت کی راہیں تلاش کرے گا، جگتھ ایبی ورنا

 

کراچی (ویب ڈیسک)

سری لنکا کے قونصل جنرل جگتھ ایبی ورنا نے کہا ہے کہ سری لنکا کے وزیر تجارت 23 جنوری 2022 کو 40 سے 50 کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد کراچی اور اسلام آباد لائیں گے تاکہ پاکستان کی تاجر برادری کے ساتھ باہمی تعاون اور مشترکہ شراکت داری کی مزید راہیں تلاش کی جاسکیں۔ سری لنکن وفد پاکستانی تاجروں کے ساتھ تجارت وسرمایہ کاری کے تعلقات بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لے گا اور پاکستان میں سیاحت کے مواقع بھی تلاش کرے گا کیونکہ سری لنکا کے زیادہ تر سیاح جو بھارت اور نیپال کا باقاعدگی سے دورہ کرتے رہتے ہیں وہ پاکستان میں بدھ مت کے تاریخی مقامات سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس، نائب صدر قاضی زاہد حسین، کے سی سی آئی کی ڈپلومیٹک مشنز اینڈ لائژن سب کمیٹی کے چیئرمین ضیاء العارفین، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز، سابق نائب صدر شمس الاسلام خان اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔قونصل جنرل نے سری لنکن وفد کے دورہ کے دوران بزنس ٹو بزنس میٹنگز کے انعقاد میں کے سی سی آئی سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہونے جا رہی ہے کیونکہ ہمیں طویل عرصے سے اتنا بڑا وفد پاکستان کے لیے نہیں ملا۔ انہوں نے کے سی سی آئی کو سری لنکا میں بھی اسی طرح کا وفد تشکیل دینے کا مشورہ دیا کیونکہ تجارتی وفود کا تبادلہ ہی تجارت وسرمایہ کاری تعلقات کو بہتر بنانے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں دوست ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی وسرمایہ کاری تعلقات کے بہت زیادہ امکانات ہیں چونکہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل کی بہت مستحکم صنعتیں ہیں جن کی مصنوعات سری لنکا کو برآمد کی جا سکتی ہیں کیونکہ ہم تقریباً تمام اقسام کی ادویات، مصنوعات اور کپڑے درآمد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا دوست ملک ہیں جو مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران پاکستان سری لنکا کو مدد فراہم کرنے والے اہم ممالک میں سے ایک تھا۔ سری لنکن قونصل جنرل نے صدر کے سی سی آئی کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ مائی کراچی نمائش میں شرکت کے لیے زیادہ سے زیادہ سری لنکن کمپنیوں کو مدعو کرنے کے امکان پر غور کریں گے جو 11 فروری سے 13 فروری 2022 تک کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگی۔کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے اپنے کلمات میں  یقین دلایا کہ کراچی چیمبر سری لنکن وفد کادورہ کراچی کے دوران پرتباک خیرمقدم کرتے ہوئے بی ٹو بی میٹنگز منعقد کرکے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کئی سالوں سے انتہائی خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں سری لنکا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنرہے اور پرامید ہیں کہ پاکستان پہلا بڑا تجارتی پارٹنر بن جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 کے دوران پاکستان نے سری لنکا سے مجموعی طور پر 324.7 ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں جبکہ سری لنکا سے پاکستان کی جانب سے 78.9 ملین ڈالر مالیت کی اشیاء درآمد کی گئیں۔ حقیقی تجارتی صلاحیت موجودہ اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے اور ہم مشترکہ کوششوں اور سری لنکا کے ساتھ قریبی رابطوںکے ذریعے اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ زراعت، ٹیکسٹائل، سیاحت، ریئل اسٹیٹ، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں جو دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے پرکشش شعبے ہیں۔ مزید برآں سری لنکا میں قیمتی پتھروں کو تراشنے، پالش کرنے اور عالمی معیار کے زیورات کی شکل دینے کی بہترین مہارت موجود ہے۔ پاکستانی جیولرز مشترکہ منصوبوں میں شامل ہو کر اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس سے وہ عالمی معیار کے زیورات تیار کر سکیں گے۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور بحری رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ کاروبار وصنعت میں تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔صدر کے سی سی آئی نے مزید کہا کہ پاکستانی مصنوعات بشمول فارماسیوٹیکل، چاول، پھل، سبزیاں، سیمنٹ اور گارمنٹس سری لنکا کی مارکیٹ میں بڑی بڑی گنجائش موجود ہے اسی طرح سری لنکا کی چائے، وال ٹائلز، فلور ٹائلز وغیرہ کی پاکستان میں بہت گنجائش ہے۔ انہوں نے سری لنکن تاجر برادری کو مائی کراچی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی جو 11 سے 13 فروری 2022 تک منعقد ہوگی۔ یہ میگا ایونٹ تاجروں کو بی ٹو بی میٹنگز کا بہترین مواقعوں کے ساتھ ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے ون ونڈو کی سہولت فراہم کرتا ہے نیز مقامی اور غیر ملکی نمائش کنندگان کو کراچی ایکسپو سینٹر کے تمام 6 ہالز میں 300 سے زائد اسٹالز پر اپنی مصنوعات اور خدمات کی نمائش کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔

By Editor