حکومت طورخم بارڈر سے متعلقہ مسائل حل ،فریٹ چارجز پر سبسڈی دے ‘ کارپٹ ایسوسی ایشن

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ پالیسی سے ترقی نہیں ہو سکتی ، دہائیوں سے زر مبادلہ کمانے والے شعبوں کو نظر انداز نہ کیا جائے

لاہور (ویب  نیوز) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرزایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت سے اپیل ہے کہ طورخم بارڈر سے متعلقہ مسائل حل کرے ، سرکاری ادارے مشکلات کے حل کی بجائے اس کا سبب ہیںلیکن انہیں کوئی پوچھنا والا نہیں ، فریٹ چارجز میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے بھی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت شدید مشکلات سے دوچار ہے اس لئے اس پر کم از کم پچاس فیصد سبسڈی دی جائے ،دوسری ممالک کی طرح پاکستان بھی بیرون ممالک پاکستانی سفارتخانوںکو برآمدات کے فروغ کیلئے اہداف دے ۔ ان خیالات کا اظہار کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک، وائس چیئرمین اعجازالرحمان ،سینئر ایگزیکٹو ممبر ریاض احمد اورسعید خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کئے بغیر مضبوط معیشت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، حکومت آگے دوڑ پیچھے چھوڑ پالیسی پر عمل پیرا ہے ، برآمدات کی فہرست میں ضرور اضافہ ہونا چاہیے لیکن جو شعبے کئی دہائیوں سے برآمدات کے ذریعے ملک کے لئے زر مبادلہ حاصل کر ر ہے ہیںانہیں کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے ،حکومت موجودہ حالات میں جس قدر ممکن ہو سکے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو فروغ دے تاکہ کسی بھی پالیسی کے سو فیصد نتائج حاصل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے طورخم کے حوالے سے دیرینہ مطالبات ہیں لیکن با ربا رکے مطالبات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔

By Editor