ترک صدر کی آواز پر عوام نے ایک ہی روز900 ملین ڈالرز کو مقامی کرنسی میں بدل ڈالا

اردوان کی حکمت عملی کامیاب، ترک کرنسی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

انقرہ(ویب  نیوز) ترک صدر کی آواز پر عوام نے لبیک کہتے ہوئے 900 ملین ڈالرز کو مقامی کرنسی میں بدل ڈالا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومتی مداخلت کے بعد ترکش لیرا کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، فنانس مارکیٹ میں اربوں ڈالر انفلو کے بعد ترکش لیرا کی قدر50فیصد بڑھ گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ترک صدر نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ غیر ملکی کرنسی کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرالیں تاکہ ترکش لیرا کی گراوٹ کو مستحکم کیا جاسکے،

ترک عوام نے طیب اردوان کی اپیل پر لبیک کہا اور صرف ایک روز ترک عوام نے900ملین ڈالر کو ترکش لیرا میں بدل کر تاریخ رقم کردی۔اردوان حکومت کی اسکیم کے مطابق زرمبادلہ ترکش لیرا میں ڈپازٹ کرنا ہوگا، ترک صدر کے اقدام اور عوام کے زبردست ردعمل کے باعث گذشتہ  روز ترکش لیرا ایک ڈالر کے مقابلے میں11.8پربند ہوا جبکہ کاروباری ہفتے کے آغاز میں ترکش لیرا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح18.4کا تھا۔اردوان حکومت نے فاریکس ڈپازٹس پر نقصان کی تلافی کا بھی وعدہ کیا ہے، مقامی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لئے ترک حکومت نے ایک ہفتے میں منی مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر سپلائی کیے جبکہ معاہدے کے تحت منی مارکیٹ ڈیلرز نے پیر اور منگل کو ڈالرز فروخت نہیں کیے۔صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ملکی اقتصادیات میں بحالی کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کا زرِ محفوظ بھی 115 بلین ڈالر سے زیادہ ہوگیا ہے، حالات اسی ڈگر پر آگے بڑھنے کی صورت میں زرِ محفوظ میں اور بھی بہتری آئے گی، ہمارا مقصد اپنے ملک کو دنیا کی پہلی 10 اقتصادی قوتوں کی صف میں شامل کرنا ہے۔واضح رہے کہ شرح سود میں غیر معمولی کمی پر لیرا کی قدر میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم فنانس مارکیٹ میں اربوں ڈالر انفلو کے بعد ترکش لیرا کی قدر50فیصد بڑھ چکی ہے

By Editor