لاہور  (ویب ڈیسک)

تاجر رہنما و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین سینئر نائب صدر فیروز پور بورڈ و ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس  نے نومبر میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ1ارب90کروڑ ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریکارڈ برآمدات کے باوجودبڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث پیدا ہونے والے تجارتی خسارہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات زیادہ، برآمدات کم ہونے سے تجارتی خسارہ ملکی معیشت کیلئے خطرہ ہے ۔برآمدات میں اضافہ کے باوجود حکومت کو تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جاری کھاتوں کے خسارے کے باعث  ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے گراوٹ کا شکار ہے اس لیے حکومت پرتعیش مصنوعات کی برآمدات کو کنٹرول کرے ۔  ان خیالات کااظہار انہوںنے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی میں برآمدات کا ہدف57ارب ڈالرزتک بڑھانا موجودہ حالات میں غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے حکومت کوبرآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درآمدات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے پرتعیش  اور غیر ضروری مصنوعات کی درآمدات پر بھی قابو پانا ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ برآمدات کی بحالی اور توسیع کے سلسلہ فوری اقدامات کی ضرورت ہے اس ضمن میں  پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش اور بیرون ملک سفارتخانوں کو فعال کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستانی مصنوعا ت کی کھپت اور برآمدات میں اضافہ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔ انہوںنے کہا کہ تجارتی خسارہ میں کمی اور حکومت کی طرف سے پانچ سالوں میں برآمدات کا ہدف57ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک کھپت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

By Editor