منی بجٹ آرڈینینس سے لانے کا فیصلہ تشویشناک ہے ، میاں کامران سیف

ہر ماہ بجلی کی قیمتوں، ٹیکسوں میں اضافے بھی منی بجٹ ہے منی بجٹ سے ہوشربا مہنگائی کا سیلاب آئے گا

منی بجٹ سے تجارتی و صنعتی شعبہ کے ساتھ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا،چیئرمین وائس آف ٹریڈرز

لاہور  (ویب ڈیسک)

وائس آف ٹریڈرز کے چیئرمین میاں کامران سیف  عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)سے طے کی گئی شرائط کے مطابق منی بجٹ آرڈینینس کے ذریعے لانے کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے چوتھے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننیس کو بل میں تبدیل کردیا ہے 350ار ب روپے کی ٹیکس چھوٹے ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول6ختم کردیا جائے گا چھٹے شیڈول کے خاتمے سے 350ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہوجائیں گی ،جبکہ ترمیمی بل میں حکومت برآمدات کے علاوہ زیروریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی جن اشیاء پر سیلز ٹیکس چھوٹ زائد ہے سٹینڈرسیلز ٹیکس ریٹ17فیصد لاگو ہوگا جبکہ ٹیکس وصولی کا ہدف5829ارب روپے سے بڑھا کر6100ارب کرنے سے عوام اور صنعتی شعبہ پر بوجھ بڑھے گاپاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب کی قسم وصولی کیلئے 12جنوری سے قبل ان کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہر ماہ بجلی کی قیمتوں  اور ٹیکسوں میں اضافے بھی منی بجٹ ہے اب پھر منی بجٹ سے ہوشربا مہنگائی کا سیلاب آئے گا ان خیالات کا اظہار انہوںنے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا میاں کامران سیف نے کہا کہ  ہر ماہ بجلی ،گیس ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے بھی منی بجٹ ہیں ۔آئی ایم ایف پروگرام خوشحالی کی بجائے ملک میں بدحالی لارہا ہے شرائط پر عملدرآمد کیلئے عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے جس سے ملک میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے جس سے صنعتی و تجارتی شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے ۔اس لیے برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات اٹھا کر زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جائے اور آئی ایم ایف پروگرام کو خیرباد کہہ دیا جائے یہی ملکی مفادات میں ہے۔

By Editor