فیصل آباد (ویب ڈیسک)

ڈائریکٹر زراعت چوہدری عبدالحمید نے چنے کے کاشتکاروں کے نام اہم پیغام میں کہا ہے کہ چنے کی فصل کی بہتر نگہداشت اور اچھی پیداوار کے لئے جاری موسم میں حکمت عملی اختیار کی جائے۔انہوں نے کہا کہ چنے کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کو ابتدائی مراحل پر یقینی بنائیں جبکہ جڑی بوٹیوں کی تعدادکم ہونے کی صورت میں جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے گوڈی کو ترجیح دیں۔انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30 تا 40 دن بعد اور دوسری ایک ماہ بعد کریں،ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے لہذا آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصا پھول آنے پر اگر ف آل سوکھا محسوس کرے تو ہلکا سا پانی لگادیں اسی طرح کابلی چنے کے لئے پہلا پانی بوائی کے 60 تا 70 دن بعد اور دوسرا پھول آنے پر دیں۔دھان کے بعد کاشت کی گئی فصل کو آبپاش کی ضرورت نہیں پڑتی۔انہوں نے کہا کہ فصل کا معائنہ کرتے رہیں اگر فصل پر دیمک، ٹوکے یا چور کیڑے کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت توسیع کے مشورہ کے مطابق مناسب زہروں کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ فصل پر امریکن سنڈی حملہ آور ہوسکتی ہے لہذا کاشتکار کھیت کا معائنہ اور سفارشات کے مطابق اس کا تدارک کریں۔ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ بارانی علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں جٹاؤ سپریئر سے پانی کا سپرے کیا جائے۔

By Editor