کراچی (ویب ڈیسک)

حکومت کا منافع بخش اداروں کو بیچ کر پیسہ کمانے کا بھی منصوبہ ناکام ہوگیا، تین سال گزرنے کے بعد بھی نجکاری کمیشن کچھ نہ بیچ سکا۔ تبدیلی سرکار کے ساڑھے تین سال کے دوران نجکاری کمیشن کی بدتر کارکردگی رہی۔ الیکشن سے قبل کیے گئے وعدے ہوا ہو گئے۔30 اکتوبر 2018 کی پہلی نجکاری بورڈ میٹنگ میں 11 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس میں چار بینکیں، تین آئل اینڈ گیس سیکٹر کمپنیز کے شیئرز، دو ایل این جی پلانٹس، دو ہوٹلز اور اسلام آباد کنویشن سینٹر شامل تھا۔تین سال گزرنے کے بعد بھی نجکاری کمیشن کچھ نہ بیچ سکا۔ حکومت کا منافع بخش اداروں کو بیچ کر پیسہ کمانے کا بھی منصوبہ ناکام ہوگیا۔ زر مبادلہ کمانے کے اہم ذریعے نجکاری سے حکومت فائدہ اٹھا نہ سکی۔3 سال کے 502 ارب روپے کے ہدف میں سے حکومت صرف 3 ارب روپے کی نجکاری کر سکی۔ 1.5 ارب روپے ڈالر کے ایل این جی پاور پلانٹس اور ڈسکوز کی نجکاری کرنے میں بھی ناکام رہی۔ نجکاری بورڈ کی ناقص کارکردگی کے باعث، درجنوں ادارے سالانہ اربوں کا خسارہ دینے میں مصروف ہیں۔

By Editor