آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے وفد کا آئی سی سی آئی کا دورہ
معدنیات شعبے کو ترقی دے کر حکومت اربوں ڈالر کی برآمدات فروغ دے سکتی ہے۔ شکیل منیر
کاروبار کے بہتر فروغ کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کرے۔ میر بہروز ریکی بلوچ

اسلام آباد (ویب نیوز  )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان معدنیات شعبے کو بہتر ترقی دے کر اربوں ڈالر کی برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے جس سے ملک کے معاشی مسائل جلد حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پا س مائنز اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کانیں اور کوئلے کے ذخائر، تانبے اور سونے کے پانچویں بڑے ذخائر، ماربل، گرینائٹ، قیمتی پتھر، کرومائٹ، جپسم اور لوہے سمیت دیگر معدنیات کے بڑے ذخائر شامل ہیں لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کیلئے ابھی تک بہتر کوشش نہیں کی گئی لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس شعبے کی ترقی پر بہتر توجہ دے تا کہ ان قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کر کے معیشت کو مضبوط کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس نے چیئرمین میر بہروز ریکی بلوچ کی قیادت میں چیمبرکا دورہ کیا۔ بیبرگ رند، امجد رشید، سردار نعمت اللہ کاکڑ، سردار ندیم حیات، محترمہ عالیہ غفور، راجہ عارف محمود اور دیگر وفد میں شامل تھے۔


محمد شکیل منیر نے کہا کہ چین، اٹلی، ترکی، اسپین اور برازیل سمیت کئی ممالک نے اپنے معدنیات شعبے پر توجہ دے کر بہتر معاشی ترقی حاصل کی ہے لیکن پاکستان میں اس شعبے پر ابھی تک مناسب توجہ نہیں دی گئی حالانکہ یہ شعبہ معیشت کو بہتر فروغ دینے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جواہرات اور زیورات کی برآمدات 2020میں اطلاعا تقریبا 29 ارب ڈالر تھیں اور برازیل کی معدنیات شعبے کی برآمدات 36 ارب ڈالر سے زائد تھیں جبکہ پاکستان بھی اس شعبے کو ترقی دے کر اربوں ڈالر کی برآمدات فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات شعبے کی ترقی سے معیشت کیلئے متعدد فوائد پیدا ہوں گے کیونکہ اس سے تجارت و برآمدات بہتر ہوں گی، روزگارو آمدنی میں اضافہ ہوگا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی اور معاشی ترقی تیز ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مائنز اور معدنیات شعبے کے تمام اہم مسائل کو حل کرے تاکہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے اس شعبے کی اصل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی ان کے شعبے کے اہم مسائل کو متعلقہ فورمز پر اٹھائے گا تا کہ ان کو حل کیا جا سکے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل پاکستان مائنز اینڈ منرلزایسوسی ایشن کے چیئرمین میر بہروز ریکی بلوچ نے اپنے شعبے کی تاجر برادری کو درپیش مختلف مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس شعبے کے نمائندگان کو اپنی کمیٹیوں میں کوئی نمائندگی نہیں دے رہی جس سے ان کے مسائل بہتر حل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں کانیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ مائنز کی منظوری کا عمل بہت طویل ہے جس میں 3 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنا ئے کیونکہ تاخیری طریقہ کار سے سرمایہ کاروں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی، تکنیکی اپ گریڈیشن، فنانس تک آسان رسائی، انسانی وسائل کی ترقی، مارکیٹنگ اور ڈسٹرکٹ ریویو اینڈ مانیٹرنگ کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے بھی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معدینات کے ذیلی شعبوں کے لیے مخصوص اور دوستانہ بینکاری مصنوعات کو یقینی بنا ئے۔ انہوں نے کہا کہ کانوں تک رسائی والی سڑکوں کی کمی، منسلک سڑکوں کے نیٹ ورک کا فقدان، یوٹیلٹیز اور صنعتی زونز کی کمی وغیرہ اس شعبے میں کم سرمایہ کاری اور سست رفتار ترقی کی اہم وجوہات ہیں لہذا حکومت ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ کان کنی اور پروسیسنگ کے ذیلی شعبوں میں فرسودہ ٹیکنالوجی اب بھی استعمال ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معیاری مصنوعات کی پیداوار ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مشینی کانکنی کو فروغ دینے میں تعاون کرے تاکہ یہ شعبہ ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کر کے برآمدات کو بہتر فروغ دے سکے۔

By Editor