پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے وفد کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ
صنعتی پیداواری سرگرمیوں کو تابکاری ذرائع سے پاک بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کو تابکاری ذرائع سے محفوظ بنانے کیلئے پی این آر سی کا کردار قابل ستائش ہے۔ شکیل منیر

اسلام آباد (ویب نیوز  )

پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) کے ایک وفد نے ممبر ایگزیکٹو محمد رحمان کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور صنعتی پیداواری سرگرمیوں کو تابکاری ذرائع سے پاک بنانے کے امور پر چیمبر کے عہدیداران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ محمد قیوم ڈائریکٹر جنرل (لائسنسنگ اینڈ اتھارٹی)، محفوظ حسین ہیڈ فزیکل پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئر سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ(پی پی ایس ڈی)، عنایت اللہ اور سید ماجد حسین شاہ پرنسپل سائنٹیفک آفیسرز وفد میں شامل تھے۔ اس موقع پر دونوں اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ قریبی باہمی تعاون کے ذریعے صنعتی یونٹس میں کسی بھی تابکارانہ سرگرمی کے امکانات کو روکنے کی کوشش کریں گے تاکہ تابکاری ذرائع سے پاک مصنوعات اور اشیاء کی پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی این آر اے کے ممبر ایگزیکٹو محمد رحمان نے اس موقع پر چیمبر کے عہدیداران کو اپنے ادارے کے کردار اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ اسکریپ دھات صنعتوں کے لیے اہم خام مال ہے جو عام طور پر مختلف ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔ تاہم برآمد کرنے والے ممالک میں بہتر ریگولیٹری کنٹرول کی کمی کی وجہ سے درآمد شدہ سکریپ دھاتوں کے اندر تابکار ذرائع کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تابکاری ذرائع کا پتہ نہ چلایا جائے تو ان کے غیر ارادی طور پر پگھلنے سے عوام غیر ضروری تابکاری اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں جس کے سنگین مالی، سماجی اور اقتصادی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی این آر اے اسلام آباد چیمبر آف کامرس سمیت دیگر چیمبروں کے تعاون سے متعلقہ صنعتوں میں تابکاری پر قابو پانے کیلئے ریگولیٹری تقاضوں کے موثر نفاذ کو یقینی بنانا چاہتی ہے تاکہ پیداو اری سرگرمیوں میں کسی بھی تابکار ماخذ کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ری سائیکلنگ سے پہلے یا بعد میں نگرانی کے لیے تابکاری کا پتہ لگانے کے نظام کو نصب کرنا چاہیے اور یقین دلایا کہ پی این آر سی انہیں ایسے نظاموں کے انتخاب اور خریداری میں تکنیکی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی این آر سی چیمبر کے تعاون سے صنعتی اداروں کی افرادی قوت کو مفت ٹریننگ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو تابکاری ذرائع سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ادارے تابکاری ذرائع کے بارے میں پی این آر سی کو بروقت اطلاع دینے کا طریقہ کار تیار کریں تا کہ صنعتی سرگرمیوں میں خطرناک تابکاری اثرات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے پاکستان میں نیوکلیئر سیفٹی، نیوکلیئر سیکیورٹی اور تابکاری سے تحفظ کے اقدامات سے متعلق تمام معاملات کو ریگولیٹ کرنے، کنٹرول کرنے اور ان کی نگرانی کے لیے پی این آر سی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی ان صنعتوں کی نشاندہی میں تعاون کرے گا جنہیں تابکاری کا پتہ لگانے والے آلات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی مختلف صنعتوں میں پی این آر اے کے سروے کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرانے میں بھی تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی صنعتوں کی طرف سے ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل کے لیے پی این آر سی کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسکریپ اور دھاتی مصنوعات میں تابکاری ذرائع/ تابکار آلودگی کو روکا جا سکے۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر اور محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ پی این آر سی ٹریڈ باڈیز میں باقاعدگی کے ساتھ تابکاری مواد کے نقصانات کے بارے میں آگاہی سیمینار منعقد کرے تاکہ تاجر برادری کو اس سے بچاؤ کے اقدامات سے بہتر آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کا آغاز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے شروع کیا جائے۔ دونوں اداروں نے اس موقع پر صنعتوں اور کاروباروں کو تابکاری مواد سے پاک بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال

By Editor